جب زیاد ابن ابیہ کو عبد اللہ ابن عباس کی قائم مقامی میں فارس اور اس کے ملحقہ علاقوں پر عامل مقرر کیا گیا، تو یہ ایک اہم دور تھا جب اسلامی ریاست کی توسیع اور انتظامی امور میں بہتری کی ضرورت تھی۔ اس وقت کے حالات میں، لوگوں میں بے چینی اور عدم اطمینان بڑھ رہا تھا، خاص طور پر جب حکام کی جانب سے انصاف کا فقدان محسوس ہوتا تھا۔ امام علی (علیہ السلام) کی یہ حکمت عملی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انصاف کی راہ اختیار کرنا نہ صرف حکومتی استحکام کے لیے ضروری ہے بلکہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بھی اہم ہے۔
اس حکمت میں اہم موضوعات میں عدل و انصاف، ظلم و زیادتی سے پرہیز، اور عوامی امن کی ضرورت شامل ہیں۔ امام علی (علیہ السلام) نے واضح کیا کہ اگر حکام ظلم و زیادتی کا راستہ اختیار کریں گے تو اس کا نتیجہ عوام کی بے بسی اور بغاوت کی صورت میں نکلے گا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر دور میں موجود رہی ہے، کہ ظلم کا نتیجہ ہمیشہ بدامنی اور اضطراب کی صورت میں نکلتا ہے۔
امام علی (علیہ السلام) کی یہ نصیحت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر حکومتی عہدے پر فائز شخص کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔ انہیں عوام کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے اور انصاف کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے۔ یہ صرف ایک اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک سیاسی ضرورت بھی ہے۔
اس حکمت کے عملی پہلو میں ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر ہم معاشرتی عدل کا قیام چاہتے ہیں تو ہمیں ظلم و زیادتی سے دور رہنا ہوگا۔ یہ ایک ایسی تعلیم ہے جو ہر مسلمان کو اپنے روزمرہ کے معاملات میں اپنانا چاہیے تاکہ ہم ایک بہتر معاشرہ تشکیل دے سکیں۔
