Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 62

تفصیلی وضاحت — حکمت (62) : جب تم پر سلام کیا جائے تو اس سے اچھے طریقے سے جواب دو۔ اور جب تم پر کوئی احسان کرے تو اس سے بڑھ چڑھ کر بدلہ دو، اگرچہ اس صورت میں بھی فضیلت پہل کرنے والے ہی کی ہوگی۔ (62- احسان کا بدلہ)

یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی ایک اہم تعلیم ہے جو انسانیت کے باہمی تعلقات کی بہتری کے لئے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اس کا تاریخی پس منظر اس وقت کا ہے جب اسلامی معاشرہ اپنی ابتدائی شکل میں تھا اور اخلاقی اقدار کی بہت زیادہ اہمیت تھی۔ امام علی علیہ السلام نے اس وقت کے لوگوں کو باہمی احترام اور محبت کی بنیاد پر زندگی گزارنے کی ترغیب دی۔

اس حکمت میں دو اہم پہلوؤں کا ذکر کیا گیا ہے: پہلا یہ کہ جب کسی شخص نے آپ کو سلام کیا تو اس کا جواب اچھے طریقے سے دینا چاہیے۔ یہ نہ صرف ایک اخلاقی فرض ہے بلکہ یہ معاشرتی تعلقات کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بھی ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب کوئی آپ پر احسان کرے تو اس کا بدلہ اس سے زیادہ کرنا چاہیے۔ یہ ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے جو دوسروں کی خیرخواہی اور محبت کو فروغ دیتی ہے۔

امام علی علیہ السلام نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اگرچہ بدلے میں فضیلت ہمیشہ پہلے کرنے والے کی ہوگی، لیکن یہ انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ اس میں دراصل ایک روحانی سبق بھی پوشیدہ ہے کہ انسان کو ہمیشہ دوسروں کے ساتھ احسان کے ساتھ پیش آنا چاہیے، چاہے وہ خود کو کم تر محسوس کرے۔

عملی طور پر، اس حکمت کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنے روز مرہ کے معاملات میں ان اصولوں کو اپنانا چاہیے۔ جب بھی کوئی ہمیں سلام کرے، ہمیں اس کا جواب دینا چاہیے اور جب کوئی ہمارے لئے کچھ کرے، تو ہمیں اس کا بدلہ دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ نہ صرف ہمارے اخلاقی کردار کو بہتر بناتا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتا ہے۔