حکمت (71): جب عقل بڑھتی ہے، تو باتیں کم ہو جاتی ہیں۔
یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی بصیرت کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ قول اس وقت کے معاشرتی اور سیاسی حالات میں بہت اہمیت رکھتا ہے جب امام علی نے اپنی زندگی میں مختلف چیلنجز کا سامنا کیا۔ ان کی حکمت کا یہ قول اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب انسان کی عقل میں اضافہ ہوتا ہے، تو وہ زیادہ سوچ سمجھ کر بولتا ہے اور غیر ضروری باتوں سے پرہیز کرتا ہے۔
یہاں عقل کی بڑھوتری کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی سوچ کو گہرائی میں لے جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں اس کی گفتگو میں وزن اور معنی آتا ہے۔ عقل کی یہ ترقی انسان کو سمجھداری سے فیصلے کرنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی باتوں کو کم کرتا ہے لیکن ان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
اس حکمت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی گفتگو میں محتاط رہنا چاہیے اور غیر ضروری باتوں سے بچنا چاہیے۔ عقل کی ترقی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم اپنی سوچ کو بہتر بنائیں، تاکہ ہم صحیح وقت پر صحیح باتیں کر سکیں۔ یہ ایک اخلاقی سبق بھی ہے کہ انسان کو اپنی باتوں کا خیال رکھنا چاہیے اور انہیں سوچ سمجھ کر ادا کرنا چاہیے۔
یہ حکمت ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جب ہم عقل کے راستے پر چلتے ہیں تو ہماری گفتگو میں بہتری آتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی عقل کو بڑھانے کی کوشش کریں تاکہ ہم زیادہ مؤثر اور معنی خیز گفتگو کر سکیں۔
