حکمت (72) میں امام علی (علیہ السلام) نے زمانے کی فطرت اور اس کی اثرات پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ حکمت انسانی تجربات کی عکاسی کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ زمانہ کس طرح انسان کے جسم اور آرزوؤں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ تاریخی تناظر میں، یہ حکمت اس وقت کی ہے جب امام علی (ع) نے اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں لوگوں کو نصیحت کی، خاص طور پر جب معاشرتی اور سیاسی مسائل عروج پر تھے۔
اس حکمت کا مرکزی خیال یہ ہے کہ زمانہ انسان کے جسم کو بوسیدہ اور کمزور کرتا ہے جبکہ آرزوؤں کو دور کرتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ وقت کے گزرنے کے ساتھ انسان کی عمر بڑھتی ہے اور جسمانی صحت میں کمی آتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انسان کی امیدیں اور خواب بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے ہیں۔ جو لوگ زمانے کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، وہ بھی دکھ اور رنج کا سامنا کرتے ہیں، جبکہ جو کچھ کھو دیتے ہیں وہ تو مزید دکھ جھیلتے ہیں۔
اس حکمت میں ایک اہم جملہ یہ ہے کہ "موت کو قریب اور آرزوؤں کو دور کرتا ہے۔" یہ ایک عمیق حقیقت ہے کہ موت ہمیشہ قریب ہوتی ہے، اور انسان کی آرزوئیں اکثر ناممکن ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کی حقیقتوں کا سامنا کرنا چاہیے اور ان کی قدردانی کرنی چاہیے۔
اخلاقی اور روحانی سبق یہ ہے کہ انسان کو وقت کی قدر کرنی چاہیے اور اپنی زندگی کے ہر لمحے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ زمانہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم کس طرح اپنی خواہشات اور امیدوں کو متوازن رکھیں۔ عملی طور پر، یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں صبر و شکر کا مظاہرہ کرنا چاہیے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔
