حکمت (86) میں امام علی (علیہ السلام) نے ایک اہم نقطہ بیان کیا ہے کہ بوڑھے کی رائے جوان کی ہمت سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ یہ حکمت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عمر کے تجربات اور زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد بوڑھے افراد کی رائے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔
تاریخی سیاق و سباق میں، یہ بات اس وقت کی ہے جب امام علی (علیہ السلام) نے اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں مختلف لوگوں کے تجربات اور مشوروں کو اہمیت دی۔ یہ حکمت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جوانی کی ہمت اگرچہ اہم ہے، مگر بوڑھوں کا تجربہ اور بصیرت زیادہ معنی رکھتی ہے۔
اس حکمت کے اہم موضوعات میں سے ایک یہ ہے کہ تجربہ انسان کو بصیرت عطا کرتا ہے۔ بوڑھے افراد نے زندگی کے مختلف پہلوؤں کو دیکھا ہوتا ہے اور ان کی رائے میں ایک گہرائی ہوتی ہے جو جوانوں کی ہمت میں نہیں ہوتی۔ اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ ہمیں ہمیشہ اپنے بزرگوں کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔
کچھ کلیدی جملے اس حکمت میں یہ ہیں: "بوڑھے کی رائے" اور "جوان کی ہمت"۔ یہ دونوں الفاظ ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ ہر عمر کی اپنی اہمیت ہے، مگر تجربہ کار افراد کی رائے کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔
اخلاقی اور روحانی سبق یہ ہے کہ ہمیں اپنے بزرگوں کی باتوں پر غور کرنا چاہیے اور ان کی رہنمائی کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ عملی طور پر، یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں فیصلے کرتے وقت تجربہ کار لوگوں کی رائے کو اہمیت دیں۔
