حکمت (85) میں امام علی (علیہ السلام) نے ایک اہم اصول بیان کیا ہے جو انسان کی علمی و عملی زندگی میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ حکمت اس بات پر زور دیتی ہے کہ انسان کو کبھی بھی یہ جملہ نہیں کہنا چاہیے کہ 'میں نہیں جانتا'۔ یہ جملہ نہ صرف علم کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ یہ انسان کی خود اعتمادی اور عزت نفس کو بھی متاثر کرتا ہے۔
تاریخی پس منظر میں، یہ حکمت اس وقت کی ہے جب علم کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی تھی اور علم کا طلب ایک عظیم فضیلت سمجھا جاتا تھا۔ امام علی (ع) نے ہمیشہ علم کی طلب کی ترغیب دی اور اس بات پر زور دیا کہ انسان کو اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنے میں شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے۔
اس حکمت کے اہم موضوعات میں علم کی طلب، خود اعتمادی، اور سچائی کی اہمیت شامل ہیں۔ امام علی (ع) نے یہ واضح کیا ہے کہ جو شخص اپنی کم علمی کو تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے، وہ زندگی میں مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرتا ہے، وہ سیکھنے اور ترقی کرنے کے مواقع کو حاصل کرتا ہے۔
اخلاقی اور روحانی اسباق میں یہ بات شامل ہے کہ علم کی طلب کبھی ختم نہیں ہونی چاہیے۔ انسان کو ہمیشہ سیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرتے ہوئے بہتر بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ، یہ حکمت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں اللہ پر توکل کرنا چاہیے اور اپنی غلطیوں سے ڈرنا چاہیے، نہ کہ علم کی کمی سے شرمندہ ہونا چاہیے۔
