حکمت (84) : تلوار سے بچے کھچے لوگ زیادہ باقی رہتے ہیں اور ان کی نسل زیادہ ہوتی ہے۔
یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی بصیرت اور دور اندیشی کی عکاسی کرتی ہے۔ تاریخی طور پر، یہ قول اس وقت کا ہے جب امام علی (ع) نے اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں جنگوں کا سامنا کیا۔ ان جنگوں میں سے بعض میں بہت سے لوگ ہلاک ہوئے، جبکہ کچھ لوگ بچ گئے۔ اس حکمت میں یہ پیغام ہے کہ جو لوگ جنگوں میں بچ جاتے ہیں، وہ نہ صرف اپنی جانیں بچاتے ہیں بلکہ ان کی نسلیں بھی آگے بڑھتی ہیں۔
اس حکمت کا ایک اہم موضوع یہ ہے کہ بقا اور نسل کی اہمیت ہے۔ تلوار کی مثال یہاں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جنگ اور خطرات کے باوجود، جو لوگ بچ جاتے ہیں، وہ اپنی مہارتوں اور قابلیتوں کی بنا پر آگے بڑھتے ہیں۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ زندگی میں مشکلات کے باوجود انسان کی قابلیت اور مہارت ہی اس کی اصل قدر ہے۔
ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ امام علی (ع) اس حکمت کے ذریعے ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ بقا کا راز صرف جسمانی تحفظ میں نہیں بلکہ فکری اور عملی مہارت میں بھی ہے۔ جو لوگ اپنی مہارتوں کو بہتر بناتے ہیں، وہ نہ صرف خود کو بلکہ اپنی نسلوں کو بھی محفوظ رکھتے ہیں۔
حکمت کا عملی پہلو یہ ہے کہ ہمیں اپنی مہارتوں کو پہچاننا اور انہیں بہتر بنانا چاہئے۔ چاہے ہم کسی بھی میدان میں ہوں، اپنی مہارتوں کو نکھارنا اور ان کا صحیح استعمال کرنا ہماری زندگی کی کامیابی کی کنجی ہے۔ یہ حکمت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنی نسلوں کی تربیت میں مہارتوں کی اہمیت کو مدنظر رکھنا چاہئے۔
