حکمت (93) میں امام علی (علیہ السلام) نے ایک اہم موضوع پر روشنی ڈالی ہے جو انسانی زندگی کے فتنوں اور آزمائشوں کے گرد گھومتا ہے۔ یہ حکمت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے آنے والے فتنوں سے بچنے کی دعا کرنے کے بجائے ہمیں ان آزمائشوں کے بارے میں آگاہ ہونا چاہیے جو ہماری زندگیوں میں آتی ہیں۔ امام فرماتے ہیں کہ کوئی بھی شخص اس دنیا میں فتنوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا، بلکہ ہمیں ان فتنوں کی نوعیت کو سمجھنا اور ان سے بچنے کی دعا کرنی چاہیے۔
یہاں امام علی (ع) نے خاص طور پر مال اور اولاد کو فتنہ قرار دیا ہے۔ یہ دونوں چیزیں انسان کی آزمائش کا ذریعہ ہیں، جہاں اللہ تعالی دیکھتا ہے کہ کون شخص اپنی قسمت پر راضی ہے اور کون شخص اپنی حالت سے ناخوش ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مال و دولت اور اولاد کی محبت میں انسان کی اصل نیت اور رویہ جانچنے کے لیے یہ آزمائشیں ضروری ہیں۔
امام علی (ع) کی یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے دلوں کی حالت کو درست رکھنا چاہیے۔ اگر ہم اللہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کریں گے، تو اللہ تعالی ہمارے معاملات کو لوگوں کے ساتھ بھی درست کرے گا۔ یہ ایک روحانی سبق ہے کہ انسان کو اپنی باطنی حالت کو بہتر بنانا چاہیے تاکہ وہ معاشرتی زندگی میں بھی کامیاب ہو سکے۔
یہ حکمت ہمیں ایک عملی نصیحت بھی دیتی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کے فتنوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے اور ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی رہنا چاہیے۔ اگر ہم اللہ کی راہ میں ثابت قدم رہیں گے تو وہ ہمیں ان آزمائشوں میں کامیابی عطا فرمائے گا۔
