حکمت (92): وہ علم بہت بے قدر و قیمت ہے جو زبان تک رہ جائے، اور وہ علم بہت بلند مرتبہ ہے جو اعضا و جوارح سے نمودار ہو۔
یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی تعلیمات کا ایک اہم پہلو پیش کرتی ہے۔ اس کا تاریخی پس منظر اس وقت کا ہے جب اسلامی معاشرہ علم و حکمت کی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ امام علی علیہ السلام نے اس دور میں علم کی حقیقی قدر و قیمت کو اجاگر کیا، جہاں بہت سے لوگ علم کو صرف زبانی طور پر بیان کرنے پر اکتفا کر رہے تھے۔
اس حکمت میں دو اہم موضوعات ہیں: علم کی قدر اور اس کا عملی نفاذ۔ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ علم کا وہ حصہ جو صرف زبان تک محدود رہتا ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں، جبکہ وہ علم جو عمل میں آتا ہے، اس کی قدر و منزلت بلند ہے۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ علم کا مقصد صرف معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ ان معلومات کو اپنی زندگی میں عملی طور پر شامل کرنا ہے۔
اہم جملے جیسے "علم بے عمل" ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ جو علم ہم حاصل کرتے ہیں، اگر وہ ہماری زندگی میں تبدیلی نہیں لاتا، تو اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ اس کا ایک اخلاقی سبق یہ ہے کہ علم کو عمل میں لانا ضروری ہے، تاکہ ہم اپنی زندگیوں میں بہتری لا سکیں۔
عملی طور پر، یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے علم کو صرف زبانی بیان کرنے کے بجائے اسے اپنی روزمرہ کی زندگی میں شامل کرنا چاہیے۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنے علم کو عمل میں لائیں، تاکہ وہ ہمارے کردار میں جھلک سکے اور ہم ایک بہتر انسان بن سکیں۔
