Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 95

تفصیلی وضاحت — حکمت (95) : جب عمل تقویٰ کے ساتھ انجام دیا جائے وہ تھوڑا نہیں سمجھا جا سکتا، اور مقبول ہونے والا عمل تھوڑا کیوں کر ہو سکتا ہے ؟ (95- معیار عمل)

یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی تعلیمات میں سے ایک اہم جملہ ہے جو عمل کی نوعیت اور اس کی قبولیت پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ قول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عمل کی قدر و قیمت اس کی مقدار یا مقبولیت سے نہیں بلکہ اس کی نیت اور تقویٰ سے ہوتی ہے۔ جب ہم کسی عمل کو تقویٰ کے ساتھ انجام دیتے ہیں تو وہ عمل چھوٹا نہیں رہتا، چاہے وہ ظاہری طور پر کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔

تاریخی پس منظر میں، امام علی (علیہ السلام) کی زندگی میں تقویٰ اور عمل کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ ان کے زمانے میں لوگ مختلف قسم کے اعمال کرتے تھے، اور بعض اوقات وہ اعمال صرف دکھاوے کے لئے ہوتے تھے۔ امام علی (علیہ السلام) نے اس حکمت کے ذریعے ہمیں یہ سمجھایا کہ حقیقی عمل وہ ہے جو خالص نیت کے ساتھ کیا جائے۔

اس حکمت کے کلیدی الفاظ 'عمل' اور 'تقویٰ' ہیں۔ عمل کی نوعیت، چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، اگر وہ تقویٰ کے ساتھ ہو تو اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ تقویٰ کا مطلب ہے اللہ کی رضا کے لئے عمل کرنا اور اپنے دل کو پاک رکھنا۔ اس طرح کا عمل کبھی بھی چھوٹا نہیں سمجھا جا سکتا۔

اخلاقی اور روحانی سبق یہ ہے کہ ہمیں اپنی نیتوں پر توجہ دینی چاہیے اور ہر عمل کو اللہ کی رضا کے لئے انجام دینا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جو عمل عوامی مقبولیت حاصل کرتا ہے، وہ ہمیشہ نیک عمل نہیں ہوتا۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی نیتوں کی پاکیزگی پر توجہ دینی چاہیے۔

عمل کی مقبولیت کے بجائے اس کی تقویٰ کے ساتھ انجام دہی کو اہمیت دینی چاہیے۔ اس حکمت سے ہمیں یہ عملی سبق ملتا ہے کہ ہم اپنے اعمال کو اللہ کی رضا کے لئے کریں، چاہے وہ کتنے ہی معمولی کیوں نہ ہوں۔