حکمت (96) میں امام علی علیہ السلام نے ایک اہم اصول کی وضاحت کی ہے کہ انبیاء علیہم السلام سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو ان کی تعلیمات اور لائے ہوئے پیغام کا زیادہ علم رکھتے ہیں۔ یہ بات اس وقت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے جب دین اسلام کی بنیادیں مضبوط ہو رہی تھیں اور لوگوں کو صحیح علم کی ضرورت تھی۔ امام علی علیہ السلام نے اس حکمت میں یہ بھی فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پیروکاروں کو ان کی خصوصیت حاصل تھی کیونکہ وہ ان کی تعلیمات کے مطابق عمل کرتے تھے۔
یہ حکمت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ علم کا درجہ بہت بلند ہے، خاص طور پر دینی علم کا۔ جو لوگ انبیاء کے پیغام کو سمجھتے ہیں، وہ ان کے قریب تر ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، امام علی علیہ السلام نے یہ بھی واضح کیا کہ اللہ کی اطاعت کرنے والا شخص، چاہے وہ نبی سے قریب نہ بھی ہو، وہ نبی کا دوست ہے۔ اس کے برعکس، اللہ کی نافرمانی کرنے والا شخص، چاہے وہ نبی کا قریبی رشتہ دار ہو، وہ نبی کا دشمن ہے۔
اس حکمت میں ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ اللہ کی رحمت اور عذاب کے بارے میں لوگوں کا رویہ کیا ہونا چاہیے۔ ہمیں اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی اس کے عذاب سے مطمئن ہونا چاہیے۔ یہ دونوں رویے انسان کے ایمان کی کمزوری کی علامت ہیں۔
عملی طور پر، اس حکمت کا پیغام یہ ہے کہ ہمیں علم حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، خاص طور پر دینی علم، تاکہ ہم اللہ کے قریب ہو سکیں۔ ہمیں اپنے اعمال کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالنا چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ نبیوں کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ہی اصل کامیابی ہے۔
