خطبہ (۱۰۵) میں امام علی علیہ السلام نے جنگِ صفین کے دوران اپنے لشکر کی حالت زار کا ذکر کیا ہے۔ یہ جنگ ۳۷ ہجری میں ہوئی، جب امام علی علیہ السلام اور معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان ایک بڑی لڑائی ہوئی۔ اس خطبے میں امام نے اپنے سپاہیوں کی کمزوری اور بزدلی کی طرف اشارہ کیا، جب انہوں نے دشمن کے سامنے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔ امام نے انہیں یاد دلایا کہ وہ عرب کے بہادروں کے سردار ہیں، اور ان کی حیثیت بلند ہے۔
امام علی علیہ السلام نے اپنے لشکر کی ہمت اور شجاعت کو بیدار کرنے کے لیے ان کی عزت اور شرف کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک وہ دشمن کے نرغے میں ہیں، ان کی آوازیں میرے دل سے نکلتی ہیں۔ یہ ایک طاقتور پیغام ہے کہ قیادت کی ذمہ داری صرف جنگ کی حالت میں نہیں بلکہ ہر وقت اپنے لوگوں کی ہمت بڑھانا بھی ہے۔
امام نے اپنے لشکر کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ انہیں دشمن کے قدم اکھاڑنے کی ضرورت ہے، جیسا کہ دشمن نے ان کے قدم اکھاڑے تھے۔ یہ ایک طاقتور استعارہ ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ میں کامیابی کے لیے صرف جسمانی طاقت نہیں بلکہ عزم اور ہمت بھی ضروری ہے۔
اس خطبے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ قیادت کا اصل مقصد اپنے لوگوں کی ہمت بڑھانا اور ان کی عزت کا خیال رکھنا ہے۔ ہمیں اپنی کمزوریوں کو پہچان کر ان کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ خطبہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ مشکل حالات میں ثابت قدم رہنا اور دشمن کا مقابلہ کرنا ہی اصل بہادری ہے۔
