خطبہ (108) میں امام علیؑ نے اسلام کے بنیادی فرائض کی وضاحت کی ہے۔ یہ خطبہ اس وقت پیش کیا گیا جب اسلامی معاشرہ اپنی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ امامؑ نے ایمان، جہاد، نماز، زکات، روزہ، اور حج و عمرہ جیسے اہم عبادات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ یہ تمام اعمال نہ صرف فرد کی روحانی ترقی کے لئے ضروری ہیں بلکہ معاشرتی بہتری کے لئے بھی اہم ہیں۔
امامؑ نے فرمایا کہ اللہ کی طرف وسیلہ ڈھونڈنے والوں کے لئے بہترین وسیلہ ایمان اور جہاد ہے، جو اسلام کی بلند چوٹی ہے۔ یہ الفاظ ہمیں بتاتے ہیں کہ ایمان کی بنیاد پر جہاد کی ضرورت ہے، جو کہ صرف جسمانی لڑائی نہیں بلکہ دین کی حفاظت اور اس کی ترویج کے لئے بھی ہے۔
نماز کو دین کا عین قرار دیتے ہوئے امامؑ نے اس کی پابندی کو لازمی قرار دیا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ نماز روحانی سکون اور اللہ کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔ اسی طرح زکات کو فرض قرار دیتے ہوئے امامؑ نے اس کی ادائیگی کو معاشرتی انصاف کی بنیاد قرار دیا ہے۔
روزہ کو عذاب سے بچنے کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے امامؑ نے ہمیں یاد دلایا کہ یہ صرف بھوک پیاس کا نام نہیں بلکہ روحانی تربیت کا بھی ذریعہ ہے۔ حج اور عمرہ کی ادائیگی کو امامؑ نے فقر کو دور کرنے اور گناہوں کی معافی کا ذریعہ قرار دیا ہے، جو کہ انسانی زندگی کی بہتری کے لئے ضروری ہیں۔
امامؑ نے حسن سلوک اور خیرات کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ معاشرتی روابط کی مضبوطی اور دوسروں کی مدد کرنا ہماری زندگی کا حصہ ہونا چاہئے۔ آخر میں امامؑ نے علم کے بارے میں بھی بات کی، کہ علم کا حاصل کرنا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے، بصورت دیگر انسان جہالت کے عذاب میں مبتلا رہتا ہے۔
