Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 109

تفصیلی وضاحت — خطبہ (109) : دنیا کی بے ثباتی کے متعلق فرمایا (109- دنیا کی بے ثباتی کے متعلق فرمایا)

خطبہ (۱۰۹) میں امام علی (علیہ السلام) نے دنیا کی فانی نوعیت اور اس کی عارضیت کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ یہ خطبہ اس وقت پیش کیا گیا جب لوگ دنیا کی آرائشوں اور اس کی عارضی خوشیوں کی طرف مائل تھے۔ امام نے دنیا کی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ایک دھوکے باز اور فریب دہ چیز ہے، جو انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس کی مشکلات اور مصائب بھی ہیں۔

امام نے دنیا کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ پانی کی طرح ہے جو آسمان سے نازل ہوتا ہے، پھر کچھ وقت کے بعد سوکھ جاتا ہے۔ اس کا یہ تشبیہ دینا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دنیا کی خوشیاں عارضی ہیں اور ان کا کوئی مستقل وجود نہیں۔ جو لوگ دنیا کی خوشیوں میں مگن رہتے ہیں، ان کے آنسو بھی بعد میں بہتے ہیں، یعنی دنیا کی خوشیاں اکثر دکھوں کا سبب بنتی ہیں۔

امام نے یہ بھی فرمایا کہ دنیا کی دوہری نوعیت ہے؛ صبح کو یہ کسی کی دوست بن کر آتی ہے اور شام کو دشمن بن جاتی ہے۔ اس کا یہ پیغام ہے کہ انسان کو کبھی بھی دنیا کی عارضیت پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔ دنیا کی ہر خوشی کے پیچھے ایک درد چھپا ہوتا ہے، اور جو شخص دنیا کی طرف جھک جاتا ہے، وہ اکثر اپنی ہی خوشیوں سے دھوکہ کھاتا ہے۔

امام نے یہ بھی ذکر کیا کہ دنیا کی حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں انسان کو ایک دن چھوڑنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی امام نے سابقہ قوموں کی مثالیں پیش کیں جو دنیا کی محبت میں مبتلا ہو کر اپنے انجام کو بھول گئیں۔ انہوں نے دنیا کی عیش و عشرت کی خاطر آخرت کو نظر انداز کیا، اور جب وہ دنیا سے چلے گئے تو ان کے پاس کوئی ایسا زاد راہ نہ تھا جو انہیں آخرت کی منزل تک پہنچاتا۔

امام علی (علیہ السلام) نے یہ خطبہ ہمیں یہ سکھایا ہے کہ ہمیں دنیا کی فانی نوعیت کو سمجھنا چاہیے اور اس کی محبت میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنی آخرت کی تیاری کرنی چاہیے اور دنیا کی عارضیت سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ جو لوگ دنیا کی محبت میں مبتلا ہوتے ہیں، وہ اکثر مصیبتوں میں پڑ جاتے ہیں۔ اس لیے ہمیں دنیا کی حقیقت کو سمجھ کر، اس کے فریب سے بچنا چاہیے۔