Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 112

تفصیلی وضاحت — خطبہ (112) : زہد و تقویٰ کے متعلق (112- زہد و تقویٰ اور زادِ عقبیٰ کی اہمیت کے متعلق)

خطبہ (۱۱۲) میں امام علی علیہ السلام نے زہد و تقویٰ کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ خطبہ اس وقت پیش کیا گیا جب مسلمانوں کو دنیاوی لذتوں اور عیش و عشرت کی طرف مائل ہونے کا خطرہ تھا۔ امام نے اس خطبہ میں اللہ کی حمد و ثنا کے ساتھ آغاز کیا اور تقویٰ کو زادِ راہ قرار دیا۔ یہ تقویٰ انسان کو اللہ کی نافرمانی سے بچاتا ہے اور اس کے دل میں خوف پیدا کرتا ہے۔

امام نے فرمایا کہ دنیا فانی ہے اور اس کی حالت مسلسل تغیر پذیر ہے۔ انسان دنیا میں مال و دولت جمع کرتا ہے لیکن موت کے وقت کچھ بھی ساتھ نہیں لے جا سکتا۔ اس کے برعکس، آخرت کی کامیابی کا راز تقویٰ میں ہے، جو انسان کو نیک اعمال کی طرف مائل کرتا ہے۔ امام نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ دنیا کی خوشیوں میں دھوکہ ہے اور انسان کو ان کی فریب کاریوں سے بچنا چاہیے۔

امام نے یہ بھی واضح کیا کہ دنیا کی ہر چیز کی حقیقت اس کے سننے سے زیادہ عظیم ہے، اور آخرت کی حقیقت کو دیکھنا اس کے سننے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ اس کے علاوہ، امام نے اس بات پر زور دیا کہ جو چیزیں اللہ نے حلال کی ہیں، ان کا دامن ان چیزوں سے کہیں وسیع ہے جن سے روکا گیا ہے۔ اس لیے انسان کو حلال کی وسعتوں میں آنا چاہیے۔

امام کی نصیحت یہ ہے کہ انسان کو اپنے اعمال کی طرف توجہ دینی چاہیے اور موت کے اچانک آنے سے ڈرنا چاہیے، کیونکہ عمر کا پلٹ کر آنا ممکن نہیں۔ یہ خطبہ ہمیں دنیا کی فانی نوعیت اور آخرت کی حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے۔