Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 119

تفصیلی وضاحت — خطبہ (119) : تحکیم کے متعلق اعتراض پر جواب (119- تحکیم کے بارے میں آپؑ پر اعتراض کیا گیا تو فرمایا)

خطبہ (119) میں امام علی علیہ السلام نے تحکیم کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیا۔ یہ خطبہ اس وقت دیا گیا جب آپؑ کے ایک ساتھی نے آپؑ سے سوال کیا کہ آپؑ نے پہلے ہمیں تحکیم سے روکا اور پھر اس کا حکم دیا، جس کی وجہ سے وہ تشویش میں مبتلا تھے۔ امام نے فرمایا کہ یہ ان لوگوں کا انجام ہے جنہوں نے عہد و وفا توڑا۔ آپؑ نے اس بات کی وضاحت کی کہ اگر آپؑ نے ان کو تحکیم کے قبول کرنے کا حکم دیا تھا تو اس کا مقصد انہیں ایک بہتر راستے پر لے جانا تھا۔

امام علی علیہ السلام نے اس خطبے میں عہد و پیمان کی اہمیت پر زور دیا اور بتایا کہ وفا توڑنے والوں کو اس کا نتیجہ بھگتنا پڑتا ہے۔ آپؑ نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر لوگ اس جنگ میں ثابت قدم رہتے، تو اللہ ان کے لئے بہتری پیدا کرتا۔ آپؑ نے اپنے ساتھیوں کی حالت زار کا ذکر کیا اور یہ کہا کہ وہ اب بھی ان لوگوں کی یاد میں غمگین ہیں جو اس راہ میں شہید ہوئے۔

آپؑ نے اپنے ساتھیوں کو یاد دلایا کہ انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہئے اور شیطان کی وسوسوں سے بچنا چاہئے۔ آپؑ نے فرمایا کہ شیطان چاہتا ہے کہ وہ دین کی گرہ کھول دے اور ان میں پھوٹ ڈال دے۔ اس لئے انہیں نصیحت کرنے والوں کی باتوں کو سننا چاہئے اور اپنے نفسوں میں مضبوطی پیدا کرنی چاہئے۔

یہ خطبہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہمیں عہد و وفا کی پاسداری کرنی چاہئے اور اپنے دین کی حفاظت کرنی چاہئے۔ ہمیں اپنے ماضی کے شہداء کی یاد کو زندہ رکھنا چاہئے اور ان کی قربانیوں کا احترام کرنا چاہئے۔

امام علی علیہ السلام کا یہ خطبہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنے اندر اتحاد پیدا کرنا چاہئے اور شیطان کی چالوں سے بچنا چاہئے۔ ہمیں نصیحت کو قبول کرنا چاہئے اور اپنے نفس کی اصلاح کرنی چاہئے۔