خطبہ (120) میں امام علی علیہ السلام نے خوارج کے ساتھ ایک اہم گفتگو کی، جب انہوں نے تحکیم کے معاملے میں انکار کیا۔ یہ خطبہ اس وقت کی اہم سیاسی اور مذہبی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے، جب اسلامی معاشرہ مختلف گروہوں میں تقسیم ہو رہا تھا۔ صفین کی جنگ کے بعد، خوارج نے امام کی قیادت کو چیلنج کیا اور اپنے آپ کو حق پر سمجھا۔ امام نے ان سے سوال کیا کہ کیا وہ سب صفین میں موجود تھے، جس سے یہ بات واضح ہوئی کہ ان کی رائے میں اختلاف ہے۔
امام نے خوارج کو دو گروہوں میں تقسیم کرنے کا کہا تاکہ وہ ہر ایک سے مناسب گفتگو کر سکیں۔ یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ امام علی علیہ السلام نے اختلافات کو سمجھنے اور ان کا حل نکالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے لوگوں کو خاموشی سے سننے کی ہدایت کی، تاکہ وہ ان کی باتوں کو غور سے سمجھ سکیں۔ یہ اس بات کی نشانی ہے کہ امام نے گفتگو کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں حق کی روشنی ڈالنے کی کوشش کی۔
امام نے یہ بھی فرمایا کہ جب خوارج نے قرآن کو نیزوں پر اٹھایا تو انہوں نے انہیں اپنے بھائی سمجھا۔ یہ ایک اہم نقطہ ہے، کیونکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بعض اوقات لوگ اپنے مفادات کے لئے دین کی تشریح کرتے ہیں۔ امام نے اس بات پر زور دیا کہ باطن میں کینہ اور عناد ہے، اور لوگوں کو اپنی راہ پر ثابت قدم رہنے کی نصیحت کی۔
امام نے یہ بھی کہا کہ اگر انہوں نے تحکیم کو مسترد کر دیا ہوتا تو ان پر کوئی گناہ نہ ہوتا۔ یہ بات اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ حق پر ہیں اور اللہ کی کتاب ان کے ساتھ ہے۔ امام نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ کے دوران ان کے ایمان میں اضافہ ہوا، اور انہوں نے صبر کا مظاہرہ کیا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مشکلات کے باوجود ایمان کو مضبوط رکھنا ضروری ہے۔
آخر میں، امام نے یہ واضح کیا کہ انہیں اپنے بھائیوں کے خلاف لڑنا پڑ رہا ہے، لیکن یہ لڑائی ان کی غلط تشریحات کی وجہ سے ہے۔ یہ ایک اہم پیغام ہے کہ کبھی کبھی ہمیں اپنے ہی لوگوں کے خلاف کھڑا ہونا پڑتا ہے جب وہ دین کے اصولوں سے منحرف ہو جاتے ہیں۔ امام نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں ایک دوسرے کے قریب رہنے کی کوشش کرنی چاہئے، تاکہ اللہ ہماری مشکلات کو دور کرے۔
