خطبہ (۱۲۳) میں امام علی علیہ السلام نے خوارج کے عقائد کی وضاحت کی ہے اور ان کے ساتھ ہونے والے تنازعے کے حوالے سے قرآن کو حَکم قرار دینے کے بارے میں بات کی ہے۔ یہ خطبہ اُس وقت پیش آیا جب امام علی علیہ السلام اور خوارج کے درمیان ایک شدید سیاسی اور نظریاتی اختلاف تھا۔ خوارج، جو کہ ایک مخصوص گروہ تھا، نے امام علی علیہ السلام کی خلافت کے خلاف بغاوت کی اور ان کے فیصلوں پر سوالات اٹھائے۔ امام نے اس خطبے میں یہ واضح کیا کہ وہ قرآن کو حَکم مانتے ہیں، نہ کہ لوگوں کو۔
امام نے فرمایا کہ قرآن ایک لکھی ہوئی کتاب ہے جس کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لیے ایک ترجمان کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہ ترجمان انسان ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا صحیح فہم حاصل کرنے کے لیے علماء اور مفسرین کی رہنمائی ضروری ہے۔ امام علی علیہ السلام نے اس بات پر زور دیا کہ اگر کسی معاملے میں جھگڑا ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرنا چاہیے، جیسا کہ قرآن میں واضح طور پر ذکر ہے۔
امام نے یہ بھی وضاحت کی کہ اگر قرآن کے مطابق فیصلہ کیا جائے تو وہ خلافت کے زیادہ حقدار ہیں، اور اگر سنت رسول کے مطابق فیصلہ کیا جائے تو بھی وہ اس کے زیادہ اہل ہیں۔ اس کے بعد امام نے خوارج کے اس سوال کا جواب دیا کہ انہوں نے تحکیم کے لیے مہلت کیوں رکھی۔ امام نے وضاحت کی کہ اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ حق کو سمجھ سکیں اور کوئی بھی جلد بازی میں فیصلہ نہ کریں۔
امام نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ کے نزدیک بہترین وہ شخص ہے جو حق پر قائم رہے، چاہے اس کے لیے نقصان ہو، اور باطل کی طرف نہ جائے، چاہے اس میں کچھ فائدہ ہو۔ اس کے بعد امام نے خوارج کی حالت پر افسوس کا اظہار کیا اور ان کی کمزوریوں کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ جنگ کی آگ بھڑکانے کے قابل نہیں ہیں اور ان سے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ خطبہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حق کی پیروی ہمیشہ اہم ہے، چاہے اس کے لیے ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ ہمیں قرآن اور سنت کی روشنی میں فیصلے کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور جلد بازی سے بچنا چاہیے۔
