خطبہ (۱۲۴) میں امام علی علیہ السلام نے مال کی تقسیم کے اصول پر گفتگو کی ہے، خاص طور پر اس وقت جب کچھ لوگوں نے آپ کے برابری و مساوات کے اصول پر اعتراض کیا۔ یہ خطبہ اس وقت پیش آیا جب امام علیہ السلام نے اسلامی ریاست کے بیت المال کی تقسیم میں انصاف کو یقینی بنایا۔ یہ اصول اس وقت بہت اہم تھے جب معاشرتی عدم مساوات اور طبقاتی فرق بڑھ رہا تھا۔ امام نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی قسم کی ناانصافی یا ظلم کو برداشت نہیں کریں گے، چاہے اس کے نتیجے میں انہیں کچھ لوگوں کی دوستی یا مدد کی ضرورت پڑے۔
امام نے فرمایا کہ اگر یہ مال ان کا اپنا ہوتا تو بھی وہ اسے سب میں برابر تقسیم کرتے، تو یہ اللہ کا مال ہے، جس کی تقسیم میں انصاف کا ہونا ضروری ہے۔ اس جملے میں یہ پیغام ہے کہ مال کی اہمیت اس کے صحیح استعمال میں ہے، نہ کہ اس کی مقدار میں۔ امام نے اس بات پر زور دیا کہ بغیر کسی حق کے مال دینا فضول خرچی اور بے اعتدالی ہے، جو دنیا میں تو انسان کو بلند کر سکتی ہے، لیکن آخرت میں ذلت کا باعث بنتی ہے۔
امام نے یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ مال کو نااہل افراد کو دیتے ہیں، ان کی دوستی اور محبت بھی ان سے چھن جائے گی۔ یہ ایک اہم سبق ہے کہ انسان کو ہمیشہ انصاف کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے، اور کسی بھی قسم کی ناانصافی سے بچنا چاہیے۔ اس خطبے میں امام علی علیہ السلام کی حکمت اور بصیرت کا اظہار ہوتا ہے، جو ہمیں سکھاتا ہے کہ معاشرتی انصاف کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔
یہ خطبہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنے اعمال کے نتائج کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ اگر ہم دنیاوی فوائد کی خاطر ناانصافی کرتے ہیں تو یہ ہمیں آخرت میں نقصان پہنچا سکتی ہے۔ امام کی یہ تعلیمات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ حقیقی کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب ہم اللہ کے اصولوں کے مطابق زندگی گزاریں۔
