Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 125

تفصیلی وضاحت — خطبہ (125) : خوارج کے عقائد کے متعلق فرمایا:۔ (125- خوارج کے عقائد کے رد میں)

خطبہ (۱۲۵) میں امام علی علیہ السلام نے خوارج کے عقائد اور ان کی غلط فہمیوں کی وضاحت کی ہے۔ یہ خطبہ اس وقت پیش کیا گیا جب خوارج نے امام کی قیادت کے خلاف بغاوت کی تھی اور ان کے بارے میں سختی سے رائے قائم کر رکھی تھی۔ امام نے اپنے مخاطبین کو یاد دلایا کہ اگر وہ مجھے گمراہ سمجھتے ہیں تو کیوں عام مسلمانوں کو میری گمراہی کا شکار سمجھتے ہیں؟ یہ ایک اہم نکتہ ہے جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خوارج نے اپنے جذبات میں آ کر معصوم مسلمانوں کو بھی اپنی غلطی کی سزا دینے کی کوشش کی۔ امام نے اس بات پر زور دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے گناہگاروں کے ساتھ بھی انصاف کیا اور انہیں اسلام سے خارج نہیں کیا۔

امام نے خوارج کے رویے کو شرارت قرار دیا اور انہیں شیطان کا پیروکار بتایا۔ اس میں یہ پیغام ہے کہ کسی بھی فرد یا گروہ کی غلطی کی بنیاد پر پوری امت کو کافر قرار دینا نہ صرف غلط ہے بلکہ یہ اسلام کی روح کے خلاف ہے۔ امام نے فرمایا کہ محبت اور دشمنی میں افراط و تفریط دونوں ہی خطرناک ہیں، اور صرف وہ لوگ جو درمیانی راستہ اختیار کریں گے، وہ کامیاب ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اعتدال کی راہ پر چلنا چاہیے اور افراط و تفریط سے بچنا چاہیے۔

امام نے اتحاد کی اہمیت پر زور دیا اور فرمایا کہ اللہ کا ہاتھ ہمیشہ جماعت کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس میں یہ سبق ہے کہ ہمیں تفرقہ اور اختلاف سے بچنا چاہیے کیونکہ یہ شیطان کی طرف لے جاتا ہے۔ امام نے واضح کیا کہ جو لوگ ان کے خلاف نعرے لگائیں، چاہے وہ خود امام ہوں، انہیں قتل کیا جائے۔ یہ ایک سخت پیغام ہے جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حق کی راہ پر چلنے کے لیے سخت فیصلے بھی کرنے پڑ سکتے ہیں۔

آخر میں، امام نے ان دو حاکموں (ابو موسیٰ اور عمرو بن العاص) کی تقرری کی وضاحت کی اور کہا کہ ان کا مقصد قرآن کی تعلیمات کے مطابق فیصلہ کرنا تھا۔ لیکن وہ اس میں ناکام رہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ قیادت کے لیے صحیح افراد کا انتخاب کرنا بہت ضروری ہے اور اگر وہ قرآن کے اصولوں سے ہٹ جائیں تو ان کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا جانا چاہیے۔