Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 126

تفصیلی وضاحت — خطبہ (126) : بصرہ میں برپا ہونے والے فتنوں کے متعلق (126- بصرہ میں ہونے والے فتنوں، تباہ کاریوں اور حملوں کے متعلق)

یہ خطبہ امام علی علیہ السلام کی بصریٰ میں ہونے والے فتنوں اور ہنگاموں کی پیش گوئی پر مشتمل ہے۔ یہ خطبہ اس وقت پیش کیا گیا جب اسلامی معاشرے میں مختلف سیاسی اور سماجی مسائل پیدا ہو رہے تھے۔ امام نے اس خطبے میں ان خطرات کی نشاندہی کی جو بصریٰ کی آبادی اور اس کے امن و سکون کو متاثر کر سکتے تھے۔ یہ خطبہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امام علی علیہ السلام کو اپنے دور کے حالات کا عمیق علم تھا اور وہ ایک بصیرت والے رہنما کی حیثیت سے اپنی قوم کو آگاہ کر رہے تھے۔

امام نے فرمایا کہ میں ایک ایسے لشکر کو دیکھ رہا ہوں جس میں نہ شور و غل ہے اور نہ ہی دھول، بلکہ یہ لشکر زمین کو اپنے پیروں سے روند رہا ہے۔ یہ الفاظ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دشمن کی طاقت اور شدت کا اندازہ لگانا ضروری ہے۔ یہ لشکر وہ لوگ ہیں جن کے ہاتھوں بے گناہوں کا خون بہایا جائے گا اور ان کی موت پر کوئی افسوس نہیں کیا جائے گا۔ یہ بات ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بے حسی اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔

امام نے بصریٰ کی خوبصورت گلیوں اور مکانات کی تباہی کی پیش گوئی کی ہے، جو اس بات کی نشانی ہے کہ معاشرتی و سیاسی عدم استحکام کے اثرات عام لوگوں کی زندگیوں پر پڑ سکتے ہیں۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنے معاشرے کی حفاظت کے لیے ہمیشہ چوکنا رہنا چاہیے۔

امام نے علم غیب کے بارے میں بھی ایک اہم وضاحت پیش کی، جس میں انہوں نے بتایا کہ علم غیب صرف اللہ کے پاس ہے اور وہ علم جو انہیں اور رسول اللہ کو دیا گیا ہے، وہ علم غیب نہیں بلکہ علم کی ایک قسم ہے جو اللہ نے اپنے نبی کو عطا کی۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ علم کا صحیح استعمال اور اس کی حقیقت کو سمجھنا کتنا اہم ہے۔

یہ خطبہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ قیامت کے دن کے علم کے علاوہ، دنیا میں ہونے والے واقعات کا علم بھی اہم ہے۔ امام کی بصیرت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہمیں اپنے معاشرتی مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں۔