خطبہ (۱۲۷) میں امام علی علیہ السلام نے دنیا کی بے ثباتی اور اس کے عارضی ہونے کا ذکر کیا ہے۔ یہ خطبہ ایک ایسے وقت میں دیا گیا جب معاشرتی اخلاقیات میں زوال آ رہا تھا اور لوگ مادیت کی طرف بڑھ رہے تھے۔ امام نے فرمایا کہ انسان کی زندگی ایک مقررہ مدت کے لیے ہے اور اس کی امیدیں اس دنیا سے بندھی ہوئی ہیں، جو کہ عارضی ہیں۔ یہ بات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کی قیمتی لمحات کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
امام نے اس خطبہ میں یہ بھی وضاحت کی کہ بہت سے لوگ اپنی محنت ضائع کر رہے ہیں اور برائی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ پیغام ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ ہمیں اپنی کوششوں کو صحیح سمت میں لگانا چاہیے، تاکہ ہم کامیابی حاصل کر سکیں۔ امام نے یہ بھی کہا کہ اچھائی کے قدم پیچھے ہٹ رہے ہیں جبکہ برائی آگے بڑھ رہی ہے، جو کہ ایک خطرناک صورت حال ہے۔
امام نے لوگوں کی حالت پر بھی روشنی ڈالی، جہاں ایک طرف فقیر فقر و فاقہ میں مبتلا ہے اور دوسری طرف دولت مند لوگ نعمتوں کا کفران کر رہے ہیں۔ یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہمیں اپنی دولت کا صحیح استعمال کرنا چاہیے اور دوسروں کی مدد کرنی چاہیے۔ امام نے یہ بھی کہا کہ لوگ اپنے آپ کو نصیحت سے دور کر رہے ہیں، جو کہ ایک بڑی خرابی کی علامت ہے۔
امام نے اس خطبہ میں نیک لوگوں کی کمی کا ذکر کیا اور سوال کیا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو اچھائی کی طرف دعوت دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔ یہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہمیں اپنے اندر نیکی کو فروغ دینا چاہیے اور برائی کے خلاف کھڑے ہونا چاہیے۔ امام نے فرمایا کہ اللہ کی رضا اور جنت حاصل کرنے کے لیے ہمیں اس کی اطاعت کرنی ہوگی۔ یہ ایک اہم پیغام ہے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ کے احکام کو اپنائیں۔
