اس خطبہ (۱۲۸) میں حضرت علیؓ نے حضرت ابو ذرؓ کو مخاطب کرتے ہوئے ان کی جلاوطنی کے موقع پر ایک اہم پیغام دیا۔ یہ خطبہ اس وقت کا ہے جب حضرت ابو ذرؓ کو ان کی حق گوئی اور اصولوں کی پاسداری کی وجہ سے جلا وطن کیا گیا۔ یہ واقعہ اسلامی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے، کیونکہ یہ حضرت ابو ذرؓ کی شخصیت اور ان کے نظریات کی عکاسی کرتا ہے۔
خطبہ کا مرکزی خیال یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی رضا کے لئے غصہ آنا چاہئے اور اسی کے لئے امید رکھنی چاہئے۔ حضرت علیؓ نے ابو ذرؓ کو یہ سمجھایا کہ جن لوگوں نے انہیں جلا وطن کیا ہے، ان کا خوف ان کی دنیا سے ہے، جبکہ ابو ذرؓ کا خوف ان کے دین سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیاوی چیزوں کی خاطر حق کا سودا نہیں کرنا چاہئے۔
ایک اہم پیغام یہ ہے کہ انسان کو ان چیزوں کو چھوڑ دینا چاہئے جن کی دنیاوی حیثیت ہے، اور اپنے دین کی حفاظت کرنی چاہئے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اگر انسان اللہ سے ڈرتا ہے تو اللہ اس کے لئے راستے کھول دیتا ہے۔ یہ ایک روحانی سبق ہے کہ اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہئے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔
خطبہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ابو ذرؓ دنیاوی چیزوں کو قبول کر لیتے تو لوگ انہیں پسند کرنے لگتے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ دنیاوی محبت اور قبولیت کی خاطر حق کی راہ کو چھوڑنا نہیں چاہئے۔ یہ خطبہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ سچائی کے ساتھ رہنا ہی اصل کامیابی ہے، چاہے دنیا کی نظر میں ہمیں نقصان ہی کیوں نہ ہو۔
