Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 133

تفصیلی وضاحت — خطبہ (133) : جب مغیرہ ابن اخنس نے عثمان کی حمایت میں بولنا چاہا تو فرمایا (133- غزوہ روم میں شرکت کے لیے مشورہ مانگا گیا تو فرمایا)

خطبہ (۱۳۳) میں امام علی علیہ السلام نے مغیرہ ابن اخنس کے عثمان کی حمایت میں بولنے پر سخت الفاظ میں جواب دیا۔ یہ خطبہ اس وقت کا ہے جب اسلامی معاشرے میں سیاسی اختلافات شدت اختیار کر چکے تھے۔ امام علی علیہ السلام اور عثمان ابن عفان کے درمیان اختلافات کی وجہ سے یہ بات چیت ہوئی۔ مغیرہ ابن اخنس نے عثمان کی حمایت میں مداخلت کی، جس پر امام نے اس کی مدد کو مسترد کر دیا۔

اس خطبہ میں امام علی علیہ السلام نے مغیرہ کو بے نسل اور بے بنیاد درخت کے پھل سے تشبیہ دی، جو اس کی بے وقعتی اور بے مائیگی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ الفاظ اس بات کی علامت ہیں کہ امام نے مغیرہ کی حمایت کو نہ صرف غیر مؤثر سمجھا بلکہ اس کی شخصیت کو بھی ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا۔ امام کا یہ کہنا کہ اللہ ایسی مددگار کو کامیابی نہیں دیتا، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حقیقی کامیابی اور عزت اللہ کی رضا اور نیک اعمال کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔

امام علی علیہ السلام کا یہ خطبہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنے حامیوں اور ساتھیوں کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ اگر ہمارے حامی بے بنیاد ہوں تو ہماری کامیابی کا امکان بھی کم ہو جاتا ہے۔ یہ خطبہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی مدد ہمیشہ ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جو نیک نیتی اور سچائی کے راستے پر گامزن ہوتے ہیں۔