خطبہ (134) میں امام علی (علیہ السلام) اپنی بیعت کے پس منظر اور لوگوں کی نیتوں کی وضاحت کرتے ہیں۔ یہ خطبہ اُس وقت دیا گیا جب امام (ع) نے خلافت سنبھالی تھی اور لوگوں کی بیعت کا معاملہ سامنے آیا۔ امام (ع) نے واضح کیا کہ ان کی نیت اللہ کے لئے ہے جبکہ لوگوں کی نیت زیادہ تر ذاتی مفادات کی بنیاد پر ہے۔ یہ بات ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ قیادت کے لئے خلوص نیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
امام (ع) نے لوگوں کو اپنی نفسانی خواہشات کے خلاف مدد کرنے کی دعوت دی۔ یہ ایک اہم پیغام ہے کہ انسان کو اپنی خواہشات پر قابو پانا چاہیے اور اللہ کی راہ میں کام کرنا چاہیے۔ امام (ع) نے مظلوم کی حمایت کا عزم کیا اور فرمایا کہ وہ ظالم سے انتقام لیں گے، یہ ایک طاقتور عزم ہے جو انصاف کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
امام (ع) کا کہنا ہے کہ وہ ظالم کو حق کی طرف لے جائیں گے، چاہے یہ ظالم کو ناگوار کیوں نہ ہو۔ اس میں ایک بڑی حکمت ہے کہ حق کی راہ پر چلنے کے لئے کبھی کبھی سختی بھی کرنی پڑتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حق کا دفاع کرنے کے لئے کبھی کبھی مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔
اس خطبہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ قیادت کے لئے خلوص نیت اور انصاف کی بنیاد پر عمل کرنا ضروری ہے۔ ہمیں اپنے ذاتی مفادات کو چھوڑ کر اجتماعی بھلائی کے لئے کام کرنا چاہیے۔ امام (ع) کی یہ باتیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہمیں ہمیشہ مظلوم کی حمایت کرنی چاہیے اور حق کے لئے آواز بلند کرنی چاہیے، چاہے اس میں ذاتی مشکلات ہی کیوں نہ آئیں۔
