خطبہ (۱۳۵) میں امام علی (علیہ السلام) نے طلحہ اور زبیر کے بارے میں گفتگو کی ہے، جو اسلامی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر واقع ہوئی۔ یہ خطبہ اُس وقت دیا گیا جب خلافت کے معاملے میں اختلافات بڑھ چکے تھے، خاص طور پر عثمان (رضی اللہ عنہ) کے قتل کے بعد۔ طلحہ اور زبیر، جو پہلے امام علی (ع) کے حامی تھے، اب ان کے خلاف کھڑے ہو گئے تھے۔ امام نے اس خطبے میں ان کی بے انصافی اور اپنے خلاف ان کے الزامات کا جواب دیا۔
امام علی (ع) نے فرمایا کہ طلحہ اور زبیر نے ان پر کوئی حقیقی الزام نہیں لگایا اور نہ ہی انصاف کیا۔ وہ اس حق کا مطالبہ کر رہے ہیں جسے انہوں نے خود چھوڑ دیا ہے اور اس خون کا بدلہ چاہتے ہیں جسے انہوں نے خود بہایا ہے۔ یہ الفاظ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امام علی (ع) نے ان کی ناپسندیدہ حرکتوں کو بے نقاب کیا اور ان کی منافقت کو واضح کیا۔
امام نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ اس معاملے میں شریک ہیں تو ان کا بھی حصہ بنتا ہے، اور اگر انہوں نے خود یہ جرم کیا ہے تو ان سے ہی حساب ہونا چاہیے۔ یہ ایک اہم اخلاقی سبق ہے کہ انسان کو اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا چاہیے اور دوسروں کو الزام دینے سے پہلے اپنی حیثیت کا جائزہ لینا چاہیے۔
امام نے یہ بھی فرمایا کہ وہ ان کے لئے ایک ایسا حوض کھولیں گے جس کا پانی پینے کے بعد ان کے لئے واپس آنا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ ایک روحانی علامت ہے کہ جو لوگ حق سے منحرف ہوتے ہیں، ان کے لئے آخرت میں عذاب ہوگا۔ امام علی (ع) نے ان کی بے وفائی اور ان کے خلاف لوگوں کو اکسانے کی بھی شکایت کی، اور اللہ سے دعا کی کہ وہ ان کی سازشوں کو ناکام بنائے۔
اس خطبے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ امام نے بیعت کے وقت کی صورتحال کو بیان کیا ہے، جب لوگ ان کے پاس بیعت کے لئے آئے تھے۔ امام نے اس بات کا ذکر کیا کہ انہوں نے اپنی طرف ہاتھ سمیٹے، لیکن لوگ ان کے ہاتھوں کو اپنی طرف کھینچتے رہے۔ یہ ایک طاقتور تشبیہ ہے جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بعض لوگ اپنے مفادات کے لئے دوسروں کا استعمال کرتے ہیں۔
امام علی (ع) نے اس خطبے میں واضح کیا کہ انہوں نے طلحہ اور زبیر کو جنگ سے پہلے بار بار روکا، لیکن انہوں نے اس موقع کی قدر نہیں کی۔ یہ ایک اہم سبق ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں آنے والے مواقع کی قدر کرنی چاہیے اور ان کا صحیح استعمال کرنا چاہیے۔
