خطبہ 136 میں امام علی (علیہ السلام) نے آنے والے فتنوں اور ہنگاموں کی پیش گوئی کی ہے۔ یہ خطبہ ان حالات کی طرف اشارہ کرتا ہے جب لوگ اپنی خواہشات کو ہدایت پر ترجیح دیں گے اور قرآن کو اپنی رائے کے تابع کر لیں گے۔ اس خطبے کا ایک اہم حصہ یہ ہے کہ جنگ کا منظر پیش کیا گیا ہے، جہاں جنگ اپنے پیروں پر کھڑی ہو گی، لیکن اس کا انجام تلخ ہو گا۔ یہ ایک علامت ہے کہ لوگ حق کی طرف پلٹنے کے بجائے باطل کے پیچھے لگیں گے۔ امام علی (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کہ ایک ایسا حکمران آئے گا جو ان تمام بدعنوانیوں کا حساب لے گا اور حق و انصاف کی روشنی کو دوبارہ زندہ کرے گا۔
یہ خطبہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ انسان کی خواہشات اور ان کے پیچھے چلنے کی عادت کیسے انہیں ہدایت سے دور کر سکتی ہے۔ امام علی (علیہ السلام) کی یہ بات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمیں ہمیشہ قرآن اور سنت کی رہنمائی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ، اس خطبے میں آنے والے فتنوں کی پیش گوئی ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ ہمیں اپنی عقل و فہم کو مضبوط رکھنا چاہیے اور ہر حال میں حق کی طرف قائم رہنا چاہیے۔
امام علی (علیہ السلام) نے اس خطبے میں ایک شدید منظر پیش کیا ہے جس میں ایک داعی باطل کو دیکھا جا رہا ہے جو شام میں کھڑا ہے اور کوفہ کے اطراف میں فتنہ برپا کر رہا ہے۔ یہ منظر ہمیں یہ بتاتا ہے کہ باطل کی طاقت کتنی خوفناک ہو سکتی ہے اور اس کے اثرات کتنے دور تک جا سکتے ہیں۔ ہمیں اس بات کی تیاری کرنی چاہیے کہ ہم ایسے حالات میں کس طرح ثابت قدم رہیں گے۔
آخر میں، امام علی (علیہ السلام) نے ہمیں یہ نصیحت کی ہے کہ ہمیں مضبوط طریقوں اور روشن نشانیوں پر قائم رہنا چاہیے۔ ہمیں اپنی کوششوں کو حق کی راہ میں لگانا چاہیے اور شیطان کے فریبوں سے بچنا چاہیے۔ یہ خطبہ ہمیں ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ ہمیں حق کی راہ نہیں چھوڑنی چاہیے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔
