خطبہ (۱۳۸) میں امام علی علیہ السلام نے غیبت اور عیب جوئی سے منع کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ خطبہ اس وقت پیش کیا گیا جب معاشرتی اخلاقیات میں زوال آ رہا تھا اور لوگوں میں ایک دوسرے کی عیب جوئی کا رواج بڑھ رہا تھا۔ امام نے اس خطبہ میں ان افراد کو مخاطب کیا ہے جو خود کو معصوم سمجھتے ہیں اور دوسروں کی غلطیوں کو اجاگر کرتے ہیں۔
امام علی علیہ السلام نے فرمایا کہ جن لوگوں کا دامن خطاؤں سے پاک ہے، انہیں چاہئے کہ وہ گنہگاروں پر رحم کریں اور اللہ کا شکر ادا کریں کہ انہوں نے انہیں گناہوں سے محفوظ رکھا ہے۔ یہ شکرگزاری ان کو دوسروں کی عیب جوئی سے روکے گی۔ یہ ایک اہم پیغام ہے کہ ہمیں دوسروں کی غلطیوں کو دیکھنے سے پہلے اپنی حالت پر غور کرنا چاہئے۔
امام نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی شخص خود بھی گناہ کرتا ہے تو اسے دوسروں کی عیب جوئی سے پرہیز کرنا چاہئے۔ یہ بات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم سب انسان ہیں اور گناہ کا امکان ہر ایک میں موجود ہے۔ اس خطبہ میں امام علی علیہ السلام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہمیں دوسروں کے عیوب کو بیان کرنے سے پہلے اپنے عیوب پر غور کرنا چاہئے۔
اس خطبہ کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ امام نے کہا کہ اگرچہ ہم نے چھوٹے گناہ کیے ہیں، پھر بھی دوسروں کی عیب جوئی کرنا ایک بڑا گناہ ہے۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنی غلطیوں کی اصلاح پر توجہ دینی چاہئے بجائے اس کے کہ ہم دوسروں کی غلطیوں کو اجاگر کریں۔
آخر میں امام علی علیہ السلام نے کہا کہ جو شخص دوسروں کی غلطیوں کے بارے میں جانتا ہے، اسے ان کی عیب جوئی سے باز رہنا چاہئے۔ یہ ایک اخلاقی اصول ہے جو ہمیں معاشرتی ہم آہنگی اور محبت کی طرف لے جاتا ہے۔
اس خطبہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں دوسروں کے عیوب کو بیان کرنے سے گریز کرنا چاہئے اور اپنی اصلاح پر توجہ دینی چاہئے۔
