Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 139

تفصیلی وضاحت — خطبہ (139) : سنی سنائی باتوں کو سچا نہیں سمجھنا چاہئے (139- سُنی سُنائی باتوں کو سچا نہ سمجھنا چاہئے)

خطبہ (139) : سنی سنائی باتوں کو سچا نہیں سمجھنا چاہئے (139- سُنی سُنائی باتوں کو سچا نہ سمجھنا چاہئے)

خطبہ 139 میں امام علی علیہ السلام نے لوگوں کو افواہوں اور سنی سنائی باتوں کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ یہ خطبہ اس وقت دیا گیا جب معاشرتی افواہیں عام تھیں اور لوگ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے ایک دوسرے کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ امام نے فرمایا کہ اگر کسی کے دین اور کردار میں پختگی کا علم ہو تو اس کے بارے میں افواہوں پر کان نہ دھرو۔ یہ ایک اہم پیغام ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں دوسروں کے بارے میں اپنے تجربات اور مشاہدات پر اعتماد کرنا چاہیے، نہ کہ سنی سنائی باتوں پر۔

امام نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جیسے ایک تیر انداز کبھی کبھار غلطی سے نشانہ چوک جاتا ہے، اسی طرح افواہیں بھی غلط ہو سکتی ہیں۔ یہ ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں ہوتے اور ہمیں ہر بات کو حقیقت کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔ اللہ تعالی ہر چیز کا سننے والا اور جاننے والا ہے، اور وہ ہماری نیتوں اور افکار کو جانتا ہے۔

امام نے سچ اور جھوٹ کے درمیان فاصلہ کو صرف چار انگلیوں کا بتایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سچائی اور جھوٹ میں فرق کرنا بہت آسان ہے، اگر ہم صحیح طریقے سے دیکھیں۔ جب امام نے اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو کان اور آنکھ کے درمیان رکھا تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ سچ وہ ہے جو ہم نے خود دیکھا ہو، جبکہ جھوٹ وہ ہے جسے ہم نے صرف سنا ہو۔

یہ خطبہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہمیں افواہوں سے بچنا چاہیے اور دوسروں کی نیتوں اور کردار کا فیصلہ کرنے سے پہلے خود مشاہدہ کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنے دل و دماغ کو صاف رکھنا چاہیے اور اللہ کی رضا کے لیے صحیح فیصلے کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

← اصل متن پر واپس جائیں