خطبہ (143) میں امام علی (علیہ السلام) نے دنیا کی فانی نوعیت اور اس کے ساتھ انسانی زندگی کی عارضیت پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ خطبہ ایک ایسے وقت میں دیا گیا جب مسلمانوں کو مختلف چیلنجز کا سامنا تھا، اور انہیں اپنی روایات اور سنتوں پر قائم رہنے کی ضرورت تھی۔ امام علی (ع) نے دنیا کی عیش و عشرت کی فانی نوعیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انسان ہر لمحہ موت کے قریب ہے، اور ہر نعمت کے ساتھ ایک نئی آزمائش آتی ہے۔
امام (ع) نے اس خطبہ میں مختلف مثالوں کے ذریعے یہ واضح کیا کہ زندگی کی ہر خوشی کے ساتھ ایک غم وابستہ ہے۔ ہر لقمہ انسان کی زندگی کی مدت کو کم کرتا ہے، اور کوئی نئی چیز اس وقت تک نہیں آتی جب تک کہ پرانی چیز ختم نہ ہو جائے۔ اس کے ذریعے امام علی (ع) نے یہ پیغام دیا کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور اس کا کوئی حقیقی مقام نہیں۔
ایک اہم نقطہ جو امام علی (ع) نے پیش کیا وہ بدعت اور سنت کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ کوئی بھی بدعت اس وقت وجود میں آتی ہے جب سنت کو ترک کیا جاتا ہے۔ یہ ایک اہم ہدایت ہے کہ ہمیں اپنے دین کی اصل تعلیمات پر قائم رہنا چاہیے اور ہر نئی چیز سے بچنا چاہیے جو دین میں شامل کی گئی ہو۔
امام علی (ع) نے اس خطبہ میں واضح کیا کہ پرانی باتیں بہتر ہیں اور دین میں نئی چیزیں بدترین ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنے اسلاف کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا چاہیے اور ان کی روشنی میں اپنی زندگی گزارنی چاہیے۔ یہ خطبہ ہمیں ایک روحانی پیغام دیتا ہے کہ دنیا کی عارضیت کو سمجھیں اور اپنے دین کی اصل روایات پر قائم رہیں۔
