خطبہ (۱۴۴) میں حضرت علی علیہ السلام نے حضرت عمر ابن خطاب کو مشورہ دیا جب انہوں نے جنگ فارس میں شرکت کے بارے میں ان سے رائے لی۔ یہ خطبہ ایک اہم تاریخی موقع پر دیا گیا، جب اسلامی سلطنت کی توسیع کے لیے جنگوں کی ضرورت تھی۔ اس خطبے میں امام علی علیہ السلام نے واضح کیا کہ کامیابی اور ناکامی کا دارومدار صرف فوج کی تعداد پر نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ کا دین ہے جو اپنی مدد سے کامیاب ہوتا ہے۔
امام علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ نے اپنے دین کو غالب کیا ہے اور اس کی مدد ہمیشہ موجود ہے۔ یہ ایک اہم پیغام ہے کہ مومنوں کو اللہ کی مدد پر بھروسہ رکھنا چاہیے، چاہے ان کی تعداد کم ہی کیوں نہ ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حاکم کی حیثیت ایک دھاگے کی مانند ہے جو تمام مہروں کو باندھ کر رکھتا ہے، اگر یہ دھاگہ ٹوٹ جائے تو سب بکھر جائیں گے۔ یہ تشبیہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ قیادت اور اتحاد کی اہمیت کو سمجھنا ضروری ہے۔
امام علی علیہ السلام نے یہ بھی بتایا کہ عرب اگرچہ تعداد میں کم ہیں، لیکن ان کی طاقت اسلام کی وجہ سے ہے۔ ان کی باہمی اتحاد اور یکجہتی ہی انہیں فتح و غلبہ عطا کرتی ہے۔ یہ پیغام آج بھی موجودہ دور میں اہم ہے جہاں اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔ امام نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اگر حضرت عمر نے جنگ کے میدان سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا تو عرب قبائل ان پر حملہ آور ہو سکتے ہیں، اور وہ اپنی حفاظت کے لیے زیادہ فکر مند ہوں گے۔
امام علی علیہ السلام نے یہ بھی کہا کہ اگر غیر عرب مسلمانوں کو دیکھیں گے تو وہ انہیں عرب کا سردار سمجھیں گے، اور اگر انہیں شکست دی گئی تو ان کی حرص اور طمع بڑھ جائے گی۔ یہ ایک اہم سبق ہے کہ دشمن کی طاقت کو کمزور کرنے کے لیے ہمیں اپنے عزم اور قوت کو برقرار رکھنا چاہیے۔
آخر میں، امام نے کہا کہ اللہ کی مدد کے بغیر تعداد کی طاقت بے معنی ہے۔ ماضی میں بھی مسلمانوں نے تعداد کی بنیاد پر نہیں بلکہ اللہ کی مدد کے ساتھ جنگیں لڑیں۔ یہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ہمیں اللہ کی مدد پر یقین رکھنا چاہیے اور اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔
