اللہ سبحانہ نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کے بندوں کو محکم و واضح قرآن کے ذریعہ سے بتوں کی پرستش سے خدا کی پرستش کی طرف اور شیطان کی اطاعت سے اللہ کی اطاعت کی طرف نکال لے جائیں۔ یہ خطبہ اس وقت کی حالت کی عکاسی کرتا ہے جب لوگوں نے قرآن و سنت سے انحراف کر لیا تھا۔ امام علی (علیہ السلام) نے اس دور کی پیشگوئی کی ہے جب حق بہت پوشیدہ ہوگا اور باطل بہت نمایاں ہوگا۔ یہ ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ جب لوگ قرآن کو صحیح طریقے سے نہیں سمجھیں گے، تو وہ اس کی آیات کا غلط استعمال کریں گے۔
اس خطبے میں امام (علیہ السلام) نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حق کی پہچان اس وقت ہو سکتی ہے جب اس کی ضد کو پہچانا جائے۔ یہ ایک اہم نقطہ ہے کہ ہم صرف اس وقت صحیح راستے کی شناخت کر سکتے ہیں جب ہم اس کے چھوڑنے والوں اور توڑنے والوں کو جان لیں۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ علم کا طلب کرنا ضروری ہے، اور ہمیں ایسے لوگوں سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے جو علم کے حامل ہیں۔
امام (علیہ السلام) نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ لوگ اپنے آپ کو قرآن کے علم سے دور کر رہے ہیں، اور اس کے حاملین بے گھر ہو رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب لوگ صحیح علم سے دور ہو جائیں گے تو وہ گمراہی کی طرف بڑھیں گے۔ اس وقت کے لوگ قرآن کے نام کو تو جانتے ہوں گے، لیکن اس کی حقیقت کو نہیں سمجھیں گے۔ یہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ علم کی تلاش میں رہنا چاہیے اور قرآن کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں شامل کرنا چاہیے۔
امام (علیہ السلام) نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جو لوگ اللہ کی عظمت کو پہچان لیتے ہیں، وہ اپنی عظمت کی نمائش نہیں کرتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اللہ کی عظمت کے سامنے عاجزی دکھانی چاہیے اور اپنی خود پسندی کو چھوڑ دینا چاہیے۔ خطبے کے آخر میں امام (علیہ السلام) نے واضح کیا ہے کہ جو لوگ علم کے حامل ہیں، ان کی ہر بات ان کے علم کی عکاسی کرتی ہے، اور ان کا باطن ان کے ظاہر کی مانند ہوتا ہے۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں علم کی طلب میں ہمیشہ کوشاں رہنا چاہیے اور ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے جو دین کی سچائی کو جانتے ہیں۔
