Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 166

تفصیلی وضاحت — خطبہ (166) : جب لوگوں نے قاتلینِ عثمان سے قصاص لینے کی فرمائش کی تو فرمایا (166- جب لوگوں نے قاتلین عثمان سے قصاص لینے کی فرمائش کی تو فرمایا)

خطبہ (166) میں امام علی علیہ السلام نے ایک اہم تاریخی موقع پر گفتگو کی جب ان کی بیعت کے بعد صحابہ کی ایک جماعت نے ان سے عثمان کے قاتلین سے قصاص لینے کا مطالبہ کیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسلامی معاشرہ شدید سیاسی کشمکش کا شکار تھا، اور مختلف گروہ آپس میں متصادم تھے۔ امام نے اس موقع پر حکمت اور بصیرت کا مظاہرہ کیا۔

امام علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ اس معاملے سے بے خبر نہیں ہیں، لیکن ان کے پاس طاقت نہیں ہے کہ وہ ان لوگوں کے خلاف کوئی اقدام کریں جو اس وقت طاقتور ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت ان کے دشمنوں کی طاقت بڑھ گئی ہے اور وہ ان پر غالب ہیں۔ یہ الفاظ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امام کی قیادت میں طاقت کا توازن اہمیت رکھتا ہے۔

امام نے کہا کہ اس وقت مختلف لوگوں کی رائے مختلف ہوگی، کچھ لوگ قصاص کے حق میں ہوں گے، کچھ اس کے خلاف، اور کچھ بیچ میں ہوں گے۔ یہ بات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ معاشرتی مسائل میں صبر اور تحمل کی ضرورت ہوتی ہے، اور جلد بازی میں فیصلے کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ امام نے مشورہ دیا کہ لوگوں کو سکون سے بیٹھنے دینا چاہیے تاکہ ان کے دلوں میں سکون پیدا ہو اور حقوق حاصل کیے جا سکیں۔

یہ خطبہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ کسی بھی جنگ یا تنازعے میں مصلحت اور حکمت کو مدنظر رکھنا چاہئے۔ امام نے فرمایا کہ وہ جنگ کو جتنا ممکن ہو روکے رکھیں گے، اور اگر کوئی چارہ نہ رہے تو آخری علاج اختیار کیا جائے گا۔ یہ الفاظ ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ طاقت کا استعمال ہمیشہ آخری آپشن ہونا چاہئے، اور پہلے حالات کو سنبھالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔