Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 170

تفصیلی وضاحت — خطبہ (170) : جب آپ پر حرص کا الزام رکھا گیا تو اس کی رد میں فرمایا۔ اور اس کے ذیل میں قریش کے مظالم اور اصحابِ جمل کی غارتگریوں کا تذکرہ (170- جب آپؑ پر حرص کا الزام رکھا گیا تو اس کی رد میں فرمایا)

خطبہ 170 میں امام علی علیہ السلام نے اپنے اوپر حرص کا الزام لگانے والوں کے جواب میں اپنی حقانیت اور خلافت کے حق کے بارے میں وضاحت کی ہے۔ یہ خطبہ اس وقت پیش کیا گیا جب امام علی علیہ السلام خلافت کے عہدے پر فائز ہونے کی کوشش کر رہے تھے، اور قریش کے بعض افراد نے ان پر یہ الزام لگایا کہ وہ اس عہدے کے لیے لالچی ہیں۔ امام نے فرمایا کہ درحقیقت یہ لوگ خود اس منصب کے لیے زیادہ حریص ہیں اور وہ ان کے حق میں حائل ہو رہے ہیں۔ امام نے اپنی نسبت پیغمبر اکرم ﷺ سے اور اپنی اہلیت کا ذکر کیا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امام علی علیہ السلام اس عہدے کے لیے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔

اس خطبہ میں امام علی علیہ السلام نے قریش کے مظالم کا بھی ذکر کیا ہے، جنہوں نے ان کی حیثیت کو کم سمجھا اور آپ کے حق خلافت پر ٹکرانے کا عزم کیا۔ امام نے اللہ سے مدد طلب کی اور کہا کہ یہ لوگ قطع رحمی کر رہے ہیں اور ان کی کوششیں ان کے حق میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ یہ ایک اہم پیغام ہے کہ حق کی طلب میں استقامت ضروری ہے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔

مزید برآں، امام نے اصحاب جمل کے بارے میں بھی بات کی، جو بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیوی کی حرمت کو پامال کیا اور مسلمانوں کے خلاف ظلم و ستم کیا۔ امام نے فرمایا کہ اگر ان لوگوں نے ایک بھی بے گناہ مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کیا تو ان کا پورا لشکر ہلاک کرنا جائز ہے۔ یہ بات ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اور اس کی روک تھام کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔

یہ خطبہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حق کے لیے جدوجہد کرنا کبھی بھی بے معنی نہیں ہوتا، اور ہمیں اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔ امام علی علیہ السلام کی یہ باتیں ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہیں کہ ظلم و زیادتی کے خلاف کھڑے ہونا اور اپنے اصولوں پر قائم رہنا ضروری ہے۔