Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 175

تفصیلی وضاحت — خطبہ (175) : حکمین کے بارے میں فرمایا (175- حکمین کے بارے میں فرمایا)

خطبہ 175 میں امام علی (علیہ السلام) نے حکمین کے بارے میں گفتگو کی ہے جو کہ ایک اہم تاریخی واقعہ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ خطبہ اس وقت کے پس منظر میں ہے جب امام علی (ع) کو خلافت کے دوران مختلف چیلنجز کا سامنا تھا، خاص طور پر جنگ صفین کے بعد جب مسلمانوں کے دو گروہوں نے متفقہ طور پر دو حکمین کا انتخاب کیا۔ امام علی (ع) نے ان دونوں حکمین سے وعدہ لیا تھا کہ وہ قرآن کے مطابق فیصلہ کریں گے، مگر وہ اپنے عہد سے منحرف ہو گئے۔

اس خطبہ کا ایک اہم موضوع انصاف اور حق کی پاسداری ہے۔ امام (ع) نے واضح کیا کہ ان حکمین نے قرآن کو چھوڑ دیا اور اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑے، حالانکہ حق ان کے سامنے تھا۔ یہ بات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب ہم کسی اہم معاملے میں فیصلہ کرتے ہیں تو ہمیں اپنی خواہشات سے بالاتر ہو کر حق کو دیکھنا چاہیے۔

امام (ع) نے یہ بھی فرمایا کہ ان حکمین کا انحراف ایک بد نیتی کی علامت ہے، جو کہ معاشرتی انصاف کے لیے خطرہ ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور انصاف کے اصولوں کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔

مزید یہ کہ امام (ع) نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اگر کوئی شخص حق سے انحراف کرتا ہے تو اس کے فیصلے کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک اہم اصول ہے کہ اگر کوئی فیصلہ حق کے خلاف ہو تو اس کی بنیاد کو مسترد کیا جا سکتا ہے۔ اس سے ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ حق کی بنیاد پر فیصلے کرنے چاہئیں اور اگر کوئی انحراف کرے تو اس کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا حق رکھتے ہیں۔