Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 18

تفصیلی وضاحت — خطبہ (18) : فتاویٰ۱ میں علماء کے مختلف الآرا ہونے کی مذمت میں فرمایا : (18- علماء کے مختلف الاراء ہونے کی مذمت اور تصویب کی رد)

خطبہ (۱۸) میں امام علی علیہ السلام نے فقہاء کے درمیان مختلف آراء کی مذمت کی ہے۔ یہ خطبہ اس وقت کی عکاسی کرتا ہے جب اسلامی معاشرے میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کے درمیان اختلافات بڑھ رہے تھے۔ امام نے اس صورتحال پر تنقید کی ہے کہ جب ایک قاضی کسی معاملے میں اپنی رائے دیتا ہے، تو وہی معاملہ دوسرے قاضی کے سامنے پیش ہوتا ہے اور وہ اس کے برعکس فیصلہ کرتا ہے۔ ان سب قاضیوں کو ایک ہی خلیفہ کے پاس جمع کیا جاتا ہے، جو ان کی آراء کو درست قرار دیتا ہے، حالانکہ اللہ، نبی اور کتاب سب ایک ہیں۔

امام علی علیہ السلام اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کیا اللہ نے انہیں اختلاف کرنے کا حکم دیا ہے، یا یہ کہ وہ جان بوجھ کر اللہ کی نافرمانی کر رہے ہیں؟ کیا دین کو اللہ نے ادھورا چھوڑ دیا ہے کہ علماء اس کی تکمیل کریں؟ یا کیا اللہ کے احکام میں ان کا کوئی حصہ ہے؟ یہ سوالات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ دین کی مکمل وضاحت اور ہدایت قرآن میں موجود ہے، اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔

امام نے قرآن کی آیات کا حوالہ دیا ہے کہ اللہ نے قرآن میں کسی چیز کی کمی نہیں رکھی، اور یہ کہ قرآن کے مختلف حصے ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہ بات اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ دین میں کوئی تضاد نہیں ہونا چاہیے۔ امام علی علیہ السلام نے یہ بھی کہا کہ اگر قرآن اللہ کے علاوہ کسی اور کا نازل کردہ ہوتا تو اس میں بہت سی اختلافات ہوتے۔

اس خطبہ کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ مسلمان معاشرے میں اتحاد اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ مختلف آراء کا ہونا ایک فطری عمل ہے، لیکن اس کے باوجود ایک ہی بنیادی اصولوں پر قائم رہنا ضروری ہے۔ یہ خطبہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنے اختلافات کو ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرتے ہوئے حل کرنا چاہیے، اور دین کی بنیادی تعلیمات پر توجہ دینی چاہیے۔