خطبہ (191) میں امام علی علیہ السلام نے متقین کی صفات کو بیان کیا ہے، جو ایک صحابی ہمام کی درخواست پر پیش کیا گیا۔ ہمام نے امام سے یہ درخواست کی کہ وہ متقین کی حالت کو اس طرح بیان کریں کہ وہ ان کی تصویر اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ سکیں۔ امام نے اس پر کچھ توقف کیا، پھر فرمایا: "اللہ سے ڈرو اور اچھے عمل کرو، کیونکہ اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو متقی اور نیک کردار ہیں۔" یہ پیغام ہمیں یہ بتاتا ہے کہ تقویٰ اور نیک عمل انسان کی زندگی کی بنیاد ہیں۔
امام نے مزید وضاحت کی کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو اپنی اطاعت کی ضرورت سے آزاد کیا ہے، اس لیے کہ نہ تو کسی کی معصیت سے اللہ کو نقصان ہوتا ہے اور نہ ہی کسی کی اطاعت سے فائدہ۔ اس کے بعد امام نے متقین کی صفات کو بیان کیا، جیسے کہ ان کی باتیں درست، لباس میانہ روی کا، اور ان کی چال میں عاجزی ہوتی ہے۔ یہ صفات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ ہمیں اپنی زندگی میں اعتدال اور عاجزی کو اپنانا چاہیے۔
امام نے یہ بھی ذکر کیا کہ متقین کی روحیں جنت کی نعمتوں کی طلب میں ہیں اور وہ عذاب جہنم سے خوفزدہ ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کی عظمت بستی ہے اور وہ دنیا کی فانی چیزوں کو حقیر سمجھتے ہیں۔ یہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ہمیں دنیا کی عارضی خوشیوں سے زیادہ آخرت کی کامیابی کی فکر کرنی چاہیے۔
خطبہ میں امام نے یہ بھی فرمایا کہ متقین کی حالت یہ ہے کہ وہ رات کو قیام کرتے ہیں، قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور اپنے دلوں کو غم سے بھر دیتے ہیں۔ یہ ان کی عبادت کا ایک اہم پہلو ہے۔ ہمیں بھی اپنی راتوں کو عبادت میں گزارنا چاہیے اور اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کرنا چاہیے۔
امام نے متقین کی ایک اور خاصیت یہ بیان کی کہ وہ اپنے اعمال کی کمزوریوں سے مطمئن نہیں ہوتے اور ہمیشہ اپنے نفس پر نظر رکھتے ہیں۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے اور کبھی بھی اپنے اعمال پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔
آخر میں، امام نے کہا کہ متقین کی علامات میں دین میں استحکام، علم میں حرص، اور عبادت میں عاجزی شامل ہیں۔ یہ ہمیں ایک مکمل متقی شخصیت کی تشکیل میں مدد دیتے ہیں۔ ہمیں بھی ان صفات کو اپنانا چاہیے تاکہ ہم اللہ کی رضا حاصل کر سکیں۔
