خطبہ ۱۹۲ میں امام علی علیہ السلام نے پیغمبر اسلام ﷺ کی بعثت، عرب قبائل کی عداوت اور منافقین کی حالت کا ذکر کیا ہے۔ یہ خطبہ اس وقت پیش کیا گیا جب اسلام کی ابتدائی تاریخ میں پیغمبر ﷺ کو شدید مخالفت کا سامنا تھا۔ عرب قبائل کی عداوت اور ان کے ہتھکنڈے پیغمبر ﷺ کی دعوت کو روکنے کے لئے تھے۔ امام علی علیہ السلام نے اس خطبہ میں پیغمبر ﷺ کی قربانیوں اور ان کے صبر کا ذکر کیا، جو انہوں نے اللہ کی رضا کے لئے برداشت کیں۔
اس خطبہ کے اہم موضوعات میں ایمان کی حفاظت، اللہ سے ڈرنے کی تلقین، اور منافقین کی شناخت شامل ہیں۔ امام علی علیہ السلام نے منافقین کی صفات کو بیان کیا کہ وہ لوگوں کے سامنے ایک چہرہ رکھتے ہیں جبکہ ان کے دلوں میں نفاق ہوتا ہے۔ یہ لوگ دوسروں کو گمراہ کرنے کے لئے مختلف چالیں چلتے ہیں اور ہر موقع پر اپنے مفادات کے لئے کام کرتے ہیں۔
امام نے منافقین کی چالاکیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر جگہ آپ کو گھیرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ ان کے دلوں میں کینہ ہوتا ہے اور وہ دوسروں کی خوشحالی پر جلتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی باتوں میں شفا اور عمل میں درد کی مثال ہیں۔ امام علی علیہ السلام نے ان کی چالاکیوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ باطل کو حق کے رنگ میں پیش کرتے ہیں اور دوسروں کے لئے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔
اس خطبہ میں امام نے اللہ کی طرف رجوع کرنے اور منافقین سے بچنے کی نصیحت کی ہے۔ یہ خطبہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنے ایمان کی حفاظت کرنی چاہئے اور ہر قسم کے فریب سے بچنا چاہئے۔ ہمیں اللہ کی رضا کے لئے صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنا چاہئے، جیسا کہ پیغمبر ﷺ نے کیا۔
