خطبہ (218) میں امام علی علیہ السلام نے سورہ الہاکم التکاثر کی تلاوت کے بعد ایک عمیق اور عبرت آموز گفتگو کی ہے۔ یہ خطبہ اس وقت کا ہے جب لوگ دنیاوی چیزوں کی کثرت پر اتراتے ہیں اور موت کو بھول جاتے ہیں۔ امام نے اس آیت کی روشنی میں بتایا کہ کس طرح لوگ اپنے آباؤ اجداد کی قبروں پر فخر کرتے ہیں، حالانکہ وہ خود بھی ایک دن اسی مقام پر پہنچنے والے ہیں۔ یہ خطبہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی فانی چیزوں کی بجائے ہمیں عبرت حاصل کرنی چاہیے۔
امام نے اس بات پر زور دیا کہ قبروں پر آنے والے لوگ غفلت میں ہیں اور ان کی آنکھیں حقیقت سے بند ہیں۔ وہ مردوں کی حالت کو دیکھ کر بھی عبرت نہیں لیتے، بلکہ جہالت کی گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں۔ یہ ایک اہم پیغام ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں موت کو یاد رکھنا چاہیے اور اس سے سبق سیکھنا چاہیے۔
امام نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ اپنے آباؤ اجداد کی قبروں پر فخر کرتے ہیں، وہ دراصل اپنی جہالت کا ثبوت دیتے ہیں۔ قبریں ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں اور ہمیں عاجزی اور فروتنی اختیار کرنی چاہیے۔ یہ خطبہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دنیاوی فخر کی بجائے ہمیں اپنی روح کی ترقی پر توجہ دینی چاہیے۔
مزید یہ کہ امام نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ مرنے کے بعد انسان کی حالت تبدیل ہو جاتی ہے اور وہ ایک نئی دنیا میں داخل ہوتا ہے جہاں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ یہ ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ دنیا میں جو چیزیں ہمیں اہم لگتی ہیں، وہ حقیقت میں عارضی ہیں۔
امام کا یہ خطبہ ایک گہری روحانی بصیرت فراہم کرتا ہے۔ ہمیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ زندگی کی حقیقت کیا ہے اور ہمیں کس طرح اپنی زندگی کو گزارنا چاہیے۔ ہمیں دنیا کی عارضی چیزوں کی بجائے آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔
