خطبہ (۲۱۹) میں امام علی (علیہ السلام) نے آیہ ﴿رِجَالٌ ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ﴾ کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی یاد کو دلوں کی صیقل قرار دیا ہے۔ یہ آیت ان لوگوں کی تعریف کرتی ہے جو دنیاوی مشاغل جیسے تجارت اور خرید و فروخت میں مشغول ہونے کے باوجود اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتے۔ یہ ایک ایسی مثال ہے جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ حقیقی کامیابی اللہ کی یاد میں ہے، نہ کہ دنیاوی کامیابیوں میں۔
امام علی (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ کی یاد انسان کو سننے، دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ جب انسان اللہ کی یاد میں مشغول ہوتا ہے تو وہ اپنی غلطیوں کا احساس کرتا ہے اور اپنی اصلاح کی کوشش کرتا ہے۔ یہ خاص لوگ ہمیشہ اللہ کے قریب رہتے ہیں اور ان کی روحانی حالت ان کی دنیاوی حالت سے بہتر ہوتی ہے۔
امام (علیہ السلام) نے یہ بھی ذکر کیا کہ ایسے لوگ دنیا کی چیزوں کے پیچھے نہیں بھاگتے، بلکہ وہ اللہ کی رضا کے لیے زندگی گزارتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی کی ہر چھوٹی بڑی بات کا حساب لیتے ہیں اور اپنی غلطیوں پر نادم ہوتے ہیں۔ یہ ندامت ان کی روحانی ترقی کا باعث بنتی ہے اور وہ اللہ کے قریب ہو جاتے ہیں۔
یہ خطبہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگیوں میں توازن قائم کرنا چاہیے۔ دنیاوی امور میں مشغولیت کے باوجود ہمیں اللہ کی یاد کو اپنے دلوں میں بسا کر رکھنا چاہیے۔ یہ خطبہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ ہم سب کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہے، اور ہمیں اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔
