Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 220

تفصیلی وضاحت — خطبہ (220) : آیت یاایہاالانسا ن ماغرّک بربّک الکریم کی تلاوت کے وقت فرمایا (220- ” یا اٴیھا الانسان ما غرّک بربک الکریم “ کی تلاوت کے وقت فرم)

خطبہ (۲۲۰)
آیت ﴿یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِیْمِۙ۝﴾: ’’اے انسان! تجھے کس چیز نے اپنے پروردگار کریم کے بارے میں دھوکا دیا‘‘ کی تلاوت کے وقت ارشاد فرمایا:

یہ خطبہ امام علی (علیہ السلام) کی بصیرت اور حکمت کا ایک نمونہ ہے، جس میں وہ انسان کی غفلت اور اس کی خود فریبی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ خطبہ اس وقت پیش کیا گیا جب لوگ دنیاوی زندگی میں مشغول تھے اور اپنے رب کی رحمتوں کو بھول چکے تھے۔ امام (ع) سوال کرتے ہیں کہ انسان کس چیز کے باعث اپنے رب کی رحمت سے غافل ہو گیا ہے، اور یہ سوال بنیادی طور پر انسان کی خود احتسابی کی دعوت ہے۔

امام (ع) اس خطبے میں انسان کی خود فریبی کی حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ کیا انسان نے اپنے گناہوں کی حقیقت کو سمجھا ہے؟ کیا وہ اپنے عذاب الٰہی کے بارے میں فکر مند ہے؟ یہ سوالات انسان کو اپنی حالت پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ امام (ع) یہ بتاتے ہیں کہ انسان کو اپنے گناہوں کی سزا کا خوف ہونا چاہیے، اور اسے اپنی زندگی میں اللہ کی یاد کو شامل کرنا چاہیے۔

امام (ع) اس خطبے میں یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ اللہ کی رحمتیں ہمیشہ انسان کے ساتھ ہیں، اور وہ کبھی بھی اپنے بندے کو اس کی نعمتوں سے محروم نہیں کرتے۔ یہ بات انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ اگر وہ اللہ کی نافرمانی کرتا ہے تو یہ اس کی اپنی کمزوری ہے، نہ کہ اللہ کی رحمت کی کمی۔

امام (ع) لوگوں کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ دنیا کی فریب کاری نے انہیں دھوکا دیا ہے، اور انہیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ اصل کامیابی اس دنیا کی عارضی چیزوں میں نہیں بلکہ آخرت کی کامیابی میں ہے۔ وہ انسان کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اس دنیا کی عیش و عشرت سے دور رہیں اور آخرت کی کامیابی کے لیے کوشش کریں۔

یہ خطبہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں اللہ کی یاد کو شامل کرنا چاہیے، اپنی کمزوریوں کا ادراک کرنا چاہیے، اور دنیا کی فریب کاری سے بچنا چاہیے۔ یہ ایک عظیم نصیحت ہے جو ہر مسلمان کے لیے اہم ہے۔