خطبہ (22) میں امام علی (علیہ السلام) نے ایک اہم تاریخی موقع پر گفتگو کی ہے جب اسلامی معاشرہ شدید بحران کا شکار تھا۔ یہ خطبہ اس وقت دیا گیا جب عثمان بن عفان کی موت کے بعد مختلف فریقین کے مابین کشیدگی بڑھ رہی تھی۔ امام علی (ع) نے اس خطبہ میں اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا جواب دیا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کی طرف سے جو انہیں عثمان کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرا رہے تھے۔
اس خطبہ کا مرکزی موضوع ظلم اور باطل کی واپسی ہے، جسے امام (ع) نے شیطان کی طرف منسوب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیطان نے اپنے پیروکاروں کو بھڑکایا ہے تاکہ ظلم اپنی انتہا تک پہنچ سکے۔ امام (ع) نے واضح کیا کہ ان پر جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ بے بنیاد ہیں اور ان لوگوں نے خود اپنے حقوق کو چھوڑ دیا ہے۔
امام (ع) نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ اس قتل میں شریک تھے تو انہیں بھی اس کا بوجھ اٹھانا چاہیے، اور اگر وہ خود ہی اس کے مرتکب ہوئے ہیں تو انہیں اس کی سزا بھی بھگتنی چاہیے۔ یہ بات ان کے مخالفین کے لئے ایک واضح پیغام ہے کہ ان کی دلیل دراصل ان کے خلاف ہے۔
امام (ع) نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ جنگ کے لئے تیار نہیں ہیں، کیونکہ انہیں اپنے دین کی حقانیت پر یقین ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کبھی بھی جنگ سے خوفزدہ نہیں ہوئے اور اللہ کی طرف سے انہیں یقین ہے۔ یہ ایک روحانی پیغام ہے کہ انسان کو اپنے ایمان میں مضبوط رہنا چاہیے اور باطل کے سامنے جھکنے کی بجائے حق کا دفاع کرنا چاہیے۔
اس خطبہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے اور دوسروں پر الزام لگانے سے پہلے اپنی حالت کا جائزہ لینا چاہیے۔ امام علی (ع) کی یہ تعلیمات آج بھی ہمیں سچائی اور انصاف کی راہ پر چلنے کی ترغیب دیتی ہیں۔
