خطبہ (۲۵) میں امیر المومنین علیہ السلام نے اس وقت کے حالات کا ذکر کیا جب معاویہ کے پیروکاروں نے آپ کے زیر کنٹرول شہروں پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب یمن کے عامل عبید اللہ بن عباس اور سپہ سالار سعید بن نُمران، بسر بن ابی ارطاۃ کے ہاتھوں شکست کھا کر واپس آئے۔ اس پس منظر میں، امام علی علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کی جہاد میں سستی اور ان کی رائے کی خلاف ورزی پر افسوس کا اظہار کیا۔ آپ نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ اگر کوفہ کا یہی حال رہا تو اللہ اسے تباہ کر دے۔
آپ نے شعر کا حوالہ دیتے ہوئے یہ واضح کیا کہ آپ کو اپنے ساتھیوں کی کمزوری سے کتنا افسوس ہے۔ آپ نے فرمایا کہ دشمن اپنے باطل پر متحد ہیں جبکہ آپ کے ساتھی حق سے بکھرے ہوئے ہیں۔ یہ بات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ باطل کی طاقت کو شکست دینے کے لیے اتحاد کی ضرورت ہے۔ آپ نے اپنی قوم کی نافرمانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے امام کی بات نہیں مانتے جبکہ دشمن اپنے امام کی باتوں پر عمل پیرا ہیں۔
امام نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ میں سے کسی کو ایک لکڑی کے پیالے کا بھی امین بناؤں تو مجھے ڈر ہے کہ وہ اسے بھی چوری کر لے گا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو اپنے ساتھیوں کی نیت پر شک تھا۔ آپ نے اللہ سے دعا کی کہ آپ کو ان کے بدلے میں بہتر لوگ عطا فرمائے۔ یہ دعا اس بات کی علامت ہے کہ آپ نے اپنے ساتھیوں کی نیتوں میں تبدیلی کی امید چھوڑ دی تھی۔
آپ نے یہ بھی کہا کہ آپ کو ایسے لوگ چاہئیں جو مدد کے لیے بلا جانے پر فوراً پہنچیں، جیسے موسم گرما کے بادل۔ یہ تشبیہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ آپ کو فوری اور مؤثر مدد کی ضرورت ہے۔ اس خطبے میں امام علی علیہ السلام کی قیادت کی خوبیوں اور ان کے ساتھیوں کی ناکامیوں کا ذکر ہے، جو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قیادت میں اتحاد، وفاداری اور نیت کی اہمیت ہوتی ہے۔
