Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 26

تفصیلی وضاحت — خطبہ (26) : پیغمبر کے بعد دنیا کی بے رخی اور معاویہ و عمرو بن العاص کا معاہدہ (26- عرب قبل از بعثت اور پیغمبرﷺ کے بعد دنیا کی بے رخی)

خطبہ (26) میں امام علی علیہ السلام نے عرب کے لوگوں کی حالت زار کا ذکر کیا ہے جب پیغمبر محمد ﷺ کی بعثت ہوئی۔ یہ خطبہ اس وقت کا ہے جب اسلامی معاشرہ اپنے ابتدائی مراحل میں تھا اور لوگ جاہلیت کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ امام نے اس خطبہ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ لوگ کس طرح بدترین دین پر تھے، جہاں وہ ایک دوسرے کا خون بہاتے، رشتہ داریاں توڑتے، اور گناہوں میں ملوث تھے۔ یہ خطبہ نہ صرف تاریخ کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس میں ایک عمیق روحانی پیغام بھی موجود ہے۔

امام علی علیہ السلام نے اپنی حالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے اہل بیت کے علاوہ کسی کو مددگار نہیں پایا۔ یہ ایک اہم پیغام ہے کہ انسان کو اپنی مشکلات میں اپنے قریبی لوگوں کی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔ امام نے اپنے غم و غصے کو برداشت کیا اور اپنی آنکھوں میں موجود دھوئیں کو نظرانداز کیا، جو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ صبر اور استقامت کی اہمیت کیا ہے۔

امام نے معاویہ اور عمرو بن العاص کے درمیان ہونے والے معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ وہ بیعت کرنے سے پہلے یہ شرط رکھ رہے تھے کہ معاویہ اس بیعت کی قیمت ادا کرے۔ یہ ایک اہم سیاسی پیغام ہے کہ جو لوگ اپنے اصولوں کے خلاف جا کر معاہدے کرتے ہیں، ان کی کامیابی مشکوک ہوتی ہے۔ امام علی نے اس بیعت کو ذلت و رسوائی کے ساتھ جوڑا، جو ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اصولوں کی پاسداری ہر حال میں ضروری ہے۔

آخر میں امام نے جنگ کی تیاری کی دعوت دی اور فرمایا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ لوگ جنگ کے لیے تیار ہو جائیں۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ مشکلات کے وقت میں ہمیں اپنی حفاظت اور اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ امام کا یہ خطبہ ہمیں صبر، استقامت، اور اصولوں کی پاسداری کی اہمیت کی یاد دلاتا ہے۔