خطبہ (۲۷) میں امام علی علیہ السلام جہاد کی اہمیت اور مسلمانوں کی غفلت پر زور دیتے ہیں۔ یہ خطبہ اس وقت پیش کیا گیا جب اسلامی معاشرہ مختلف خطرات کا شکار تھا، اور دشمنان اسلام نے مسلمانوں کے علاقوں میں حملے شروع کر دیے تھے۔ امام نے جہاد کو جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ قرار دیا ہے، جو اللہ کے خاص دوستوں کے لیے کھولا گیا ہے۔ یہ جہاد نہ صرف ایک فریضہ ہے بلکہ یہ ایک ایسا لباس ہے جو انسان کو تقویٰ اور اللہ کی حفاظت فراہم کرتا ہے۔
امام نے واضح کیا کہ جو لوگ جہاد کو چھوڑ دیتے ہیں، اللہ انہیں ذلت و خواری کے لباس میں لپیٹ دیتا ہے۔ یہ ایک قوی نکتہ ہے کہ جہاد کو ترک کرنے سے انسان کی روحانی حالت متاثر ہوتی ہے، اور وہ ذلت و رسوائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ امام نے مسلمانوں کو یاد دلایا کہ جب وہ جہاد سے پیچھے ہٹتے ہیں تو ان کے دلوں پر غفلت کا پردہ پڑ جاتا ہے، اور وہ حق کو کھو دیتے ہیں۔
امام نے اپنی قوم کو جہاد کی طرف بلایا اور ان کی کمزوریوں کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم جنگ کے وقت خوف محسوس کرتے ہو تو یہ ایک عذر نہیں ہے، کیونکہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ امام نے اس بات پر زور دیا کہ جب دشمن تمہارے گھروں میں داخل ہو جائے تو تمہیں جہاد کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
امام کی یہ باتیں ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہیے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ یہ خطبہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم جہاد سے پیچھے ہٹیں گے تو ہمیں ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہمیں اپنی کمزوریوں کو دور کرنا ہوگا اور اللہ کی راہ میں جہاد کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
