Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 29

تفصیلی وضاحت — خطبہ (29) : جنگ کے موقع پر حیلہ بہانے کرنے والوں کے لیے فرمایا (29- جنگ کے موقعہ پر حیلے بہانے کرنے والوں کے متعلق فرمایا)

یہ خطبہ امام علی (علیہ السلام) کی جنگ کے موقع پر ان لوگوں کے لیے ہے جو بہانے بنا رہے تھے۔ یہ خطبہ اس وقت دیا گیا جب امام علی (علیہ السلام) کو اپنی فوج کی کمزوری اور بے حوصلگی کا سامنا تھا۔ یہ ان کی حوصلہ شکنی اور بے عملی پر ایک سخت تنقید ہے۔ امام نے لوگوں کو متنبہ کیا کہ ان کی باتیں تو دل کو نرم کر دیتی ہیں، مگر ان کے اعمال دشمنوں کے لیے موقع فراہم کرتے ہیں۔

امام علی (علیہ السلام) نے فرمایا کہ آپ لوگ اپنی مجالس میں جنگ کی تیاری کی باتیں کرتے ہیں، لیکن جب جنگ کا وقت آتا ہے تو خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک بڑی کمزوری ہے جو کسی قوم کی طاقت کو کمزور کرتی ہے۔ امام نے یہ بھی واضح کیا کہ جو لوگ بہانے بناتے ہیں، وہ دراصل اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں، جیسے ایک مقروض اپنے قرض خواہ کو ٹالنے کی کوشش کرتا ہے۔

خطبے میں امام علی (علیہ السلام) نے یہ بھی کہا کہ حق کو بغیر کوشش کے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک اہم پیغام ہے کہ کامیابی کے لیے محنت اور کوشش ضروری ہے۔ انہوں نے لوگوں کو یاد دلایا کہ ان کے بعد اور کون سا امام ہوگا اور کس کے ساتھ جہاد کریں گے، جو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کے لیے ایک زبردست سوال ہے۔

امام نے اپنے مخلص ساتھیوں کی کمی کا ذکر کیا اور یہ واضح کیا کہ ان کی حالت یہ ہے کہ وہ ان کی باتوں پر یقین نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان سے مدد کی امید کر سکتے ہیں۔ یہ ایک مایوس کن صورتحال ہے جو کسی بھی قوم کے لیے خطرناک ہوتی ہے۔ امام نے ان کی بے حسی اور غفلت کی نشاندہی کی، جو کہ ایک قوم کی کمزوری کی علامت ہے۔

اس خطبے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہر قوم کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے اور جنگ کے وقت بہانے نہیں بنانا چاہئیں۔ ہمیں اپنی کمزوریوں کو تسلیم کر کے ان پر قابو پانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ امام علی (علیہ السلام) کی یہ باتیں آج بھی ہمارے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں کہ ہمیں اپنی باتوں کے ساتھ ساتھ اپنے اعمال پر بھی توجہ دینی چاہیے۔