خطبہ (۳۱) میں امام علی علیہ السلام نے جنگ جمل سے پہلے ابن عباس کو زبیر کے پاس بھیجنے کے موقع پر اس سے کچھ اہم باتیں کیں۔ یہ خطبہ ایک اہم تاریخی پس منظر میں ہے، جب اسلامی معاشرہ مختلف گروہوں میں تقسیم ہو رہا تھا اور جنگ جمل کی تیاری کی جا رہی تھی۔ امام علیہ السلام نے ابن عباس کو خاص طور پر زبیر کی نرم طبیعت کی وجہ سے اس کے پاس بھیجا تاکہ وہ اسے اطاعت کی طرف واپس لانے کی کوشش کریں۔
امام نے زبیر کے بارے میں فرمایا کہ وہ نرم مزاج ہے، جبکہ طلحہ کے بارے میں کہا کہ وہ ایک سرکش بیل کی مانند ہے۔ یہ تشبیہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ طلحہ کی طبیعت میں سختی اور سرکشی ہے، جبکہ زبیر کی طبیعت میں نرمی اور دوستانہ رویہ ہے۔ اس طرح امام نے ابن عباس کو ہدایت دی کہ وہ زبیر سے مل کر اس کی نرم طبیعت کا فائدہ اٹھائیں اور اسے سمجھائیں کہ وہ کیوں اپنے موقف میں تبدیلی لا رہا ہے۔
امام کا یہ سوال کہ "فَمَا عَدَا مِمَّا بَدَا" (اس تبدیلی کا کیا سبب ہے؟) دراصل ایک اہم سوال ہے جو ہمیں اپنی زندگی میں بھی پوچھنا چاہیے۔ یہ ہمیں اپنے اعمال اور فیصلوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ سوال ہمیں اپنی اندرونی تبدیلیوں اور ان کے اسباب کی طرف متوجہ کرتا ہے، اور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم اپنی اصولوں اور نظریات کے مطابق چل رہے ہیں؟
اس خطبہ کی ایک اہم تعلیم یہ ہے کہ ہمیں دوسروں کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آنا چاہیے، خاص طور پر جب ہم کسی کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہوں۔ امام علی علیہ السلام نے زبیر کی نرم مزاجی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی طرف توجہ دی، جو کہ ایک بہترین حکمت عملی ہے۔ یہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہمیں لوگوں کی حقیقی فطرت کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ ہم ان کے ساتھ مؤثر طریقے سے بات چیت کر سکیں۔
