Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 39

تفصیلی وضاحت — خطبہ (39) : جنگ سے جی چرانے والوں۱ کی مذمت میں (39- جنگ سے جی چرانے والوں کی مذمت میں)

خطبہ (۳۹) میں امام علی (علیہ السلام) نے ایسے لوگوں کی مذمت کی ہے جو جنگ سے جی چرانے والے ہیں۔ یہ خطبہ اس وقت دیا گیا جب امام (ع) کو اپنی جماعت میں بے حوصلگی اور عدم تعاون کا سامنا تھا۔ یہ ایک اہم تاریخی موقع تھا جب مسلمانوں کو اپنے دشمنوں کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت تھی، لیکن لوگ جنگ سے بھاگ رہے تھے۔ امام (ع) نے ان کی بے حسی اور غیرت کی کمی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

خطاب میں امام (ع) نے لوگوں کو یاد دلایا ہے کہ دین انہیں ایک جگہ جمع کرتا ہے اور غیرت و حمیت انہیں جوش میں لاتی ہے۔ یہ ایک اہم پیغام ہے کہ دین کی بنیاد پر اتحاد اور اجتماعی قوت کا ہونا ضروری ہے۔ امام (ع) کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ میں ایک گہری روحانی بصیرت ہے کہ جب لوگ اپنے فرائض سے غافل ہو جائیں تو ان کے اعمال کے نتائج بھیانک ہو سکتے ہیں۔

امام (ع) نے ان لوگوں کی مثال دی ہے جو ایک بیمار اونٹ کی طرح ہیں، جو اپنی حالت کی شدت کو سمجھ نہیں پا رہے۔ یہ تشبیہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جب لوگ اپنی ذمہ داریوں سے بھاگتے ہیں تو وہ خود کو اور اپنے معاشرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ امام (ع) نے یہ بھی کہا کہ ان کی مدد کے لیے آنے والی فوج بہت کمزور اور بے حوصلہ تھی، جو اس بات کی علامت ہے کہ لوگوں میں جنگ کے لیے کوئی عزم نہیں رہا۔

یہ خطبہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنے دین اور قوم کے لیے کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ جنگ سے بھاگنے کے بجائے ہمیں اپنی غیرت اور حمیت کو بیدار کرنا چاہیے۔ امام (ع) کی یہ باتیں ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہیں کہ اگر ہم اپنی ذمہ داریوں سے غافل رہیں گے تو اس کے نتائج ہمارے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی طاقت کو پہچاننا چاہیے اور اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے تیار رہنا چاہیے۔