خطبہ (۴۰) میں امام علی علیہ السلام نے خوارج کے قول «لَا حُكْمَ اِلَّا لِلّٰهِ» کا ذکر کیا ہے۔ یہ قول ایک حقائق پر مبنی ہے، مگر خوارج اس کا غلط مطلب نکالتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ حکومت صرف اللہ کی ہونی چاہیے، ایک ناقص سوچ ہے۔ امام علی علیہ السلام نے واضح کیا کہ لوگوں کے لیے ایک حاکم کا ہونا ضروری ہے، چاہے وہ اچھا ہو یا برا۔ اگر حاکم نیک ہو تو مومن اچھے اعمال کر سکتا ہے، اور اگر برا ہو تو کافر اس کے عہد میں اپنی لذتوں سے بہرہ مند ہوتا ہے۔
امام علیہ السلام نے اس بات پر زور دیا کہ اللہ کی طرف سے ہر چیز اپنے آخری مراحل تک پہنچتی ہے۔ ایک حاکم کی موجودگی میں دولت جمع ہوتی ہے، دشمنوں کے خلاف جنگ کی جاتی ہے، اور راستے محفوظ رہتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس حاکم کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے۔ امام نے یہ بھی فرمایا کہ نیک حاکم کے مرنے یا معزول ہونے سے راحت ملتی ہے جبکہ برے حاکم کے مرنے سے دوسروں کو سکون ملتا ہے۔
اس خطبے میں ایک اہم پیغام یہ ہے کہ حکومت کی نوعیت کا اثر معاشرتی زندگی پر پڑتا ہے۔ اگر حکومت نیک ہو تو لوگ نیک اعمال کی طرف راغب ہوتے ہیں، اور اگر حکومت بدعنوان ہو تو لوگ اپنی خواہشات کی تکمیل میں مشغول رہتے ہیں۔ اس طرح، امام علی علیہ السلام نے اس بات کی وضاحت کی کہ ایک حکومتی نظام کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں امن و سکون قائم رہے۔
یہ خطبہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنے حکمرانوں کی نوعیت کا جائزہ لینا چاہیے اور ان کے اعمال کی بنیاد پر اپنی زندگیوں میں بہتری لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی حکمت ہر چیز کے پیچھے ہے اور ہمیں اس کے فیصلوں پر صبر اور یقین رکھنا چاہیے۔
