خطبہ (۵۹) میں امام علی علیہ السلام نے خوارج کے ساتھ جنگ کے ارادے کا اظہار کیا۔ جب انہیں بتایا گیا کہ خوارج نہر وان کا پل عبور کر چکے ہیں، تو آپ نے فرمایا کہ ان کی ہزیمت کا مقام اسی پانی کے قریب ہے۔ آپ کی پیشین گوئی کے مطابق، نہ تو ان میں سے دس لوگ بچیں گے اور نہ ہی آپ کے ساتھیوں میں سے دس ہلاک ہوں گے۔ یہ الفاظ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ امام علی علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے علم تھا کہ یہ جنگ کس طرح ختم ہوگی۔
اس خطبے میں 'نطفہ' کا ذکر کرتے ہوئے، سید رضیؒ نے وضاحت کی کہ اس سے مراد نہر فرات کا پانی ہے، جو کہ ایک طاقتور علامت ہے۔ یہ ایک ایسی علامت ہے جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ خوارج کی ہزیمت کا وقت قریب ہے۔ جب خوارج کو ہلاک کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ ابھی بھی مردوں کی صلبوں اور عورتوں کے شکموں میں موجود ہیں، یعنی ان کی نسلیں ابھی باقی ہیں اور ان میں سے کوئی نہ کوئی سردار ابھرے گا۔
آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میرے بعد خوارج کو قتل نہ کرنا، کیونکہ جو شخص حق کی تلاش میں ہے، وہ اس کے حصول میں ناکام نہیں ہوتا۔ اس بیان میں امام نے خوارج کے بارے میں ایک اہم نکتہ پیش کیا کہ ان کا مقصد حق کی تلاش کرنا ہے، حالانکہ وہ اس میں ناکام رہے۔ یہ ایک اخلاقی سبق ہے کہ انسان کو حق کی تلاش میں کوشش کرنی چاہئے، چاہے وہ کبھی ناکام بھی ہو۔
اس خطبے کے ذریعے امام علی علیہ السلام نے نہ صرف خوارج کی ہزیمت کی پیشین گوئی کی بلکہ ان کے مستقبل کے بارے میں بھی ایک بصیرت فراہم کی۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حق کی تلاش میں کوشش کبھی ضائع نہیں جاتی، اور ہر انسان کو اپنے ایمان کے راستے پر چلتے رہنا چاہئے۔
